خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 527
خطبات ناصر جلد ہفتہ ۵۲۷ خطبہ جمعہ ۸/دسمبر ۱۹۷۸ء ان کے کانوں میں خدا اور رسول کی باتیں پڑیں گی۔وہ تقریریں سنتے ہیں ان کو سمجھ نہیں آتی لیکن میں حیران ہوں شاید آپ کو پتا نہیں کہ بعض دفعہ ۲۶ / تاریخ کی تقاریر کا علم ان لوگوں کو جو ہماری زبان نہیں جانتے عشاء کے وقت ہو چکا ہوتا ہے۔اس قدر وہ کرید کرید کر پوچھتے ہیں کہ اس مقرر نے کیا کہا، اس نے کیا کہا، اس نے کیا کہا اور نوٹ لیتے ہیں اور کچھ یادر کھتے ہیں اور اس طرح وہ لوگ علم حاصل کرتے ہیں لیکن صرف علم حاصل کرنا ان کو اتنا فائدہ نہیں دے سکتا وہ بڑی تیز نگاہیں لے کر یہاں آتے ہیں اور وہ آپ کو دیکھتے ہیں کہ کیا آپ قرآنی تعلیم کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں یا نہیں؟ وہ آپ کے مردوں کو دیکھتے ہیں، بچوں کو بھی دیکھتے ہیں اور جوانوں کو بھی دیکھتے ہیں اور باہر سے جو عورتیں آتی ہیں وہ ربوہ کی عورتوں کو دیکھتی ہیں کہ تم ہمیں تعلیم دے رہے ہو قرآن سکھا رہے ہو خود بھی عمل کر رہے ہو یا نہیں؟ یہ نمونہ پیش کرنا بھی ربوہ کا کام ہے۔مثلاً دکاندار ہیں ہم کب کہتے ہیں کہ تم دکانداری نہ کرو۔اسلام نے روزی کمانے سے تو منع نہیں کیا لیکن اسلام نے روزی کمانے کے لئے ہدایتیں بھی دی ہیں ان ہدایتوں کی پابندی کرو۔ذخیرہ اندوزی نہیں کرنی، منڈی میں آکر منڈی کے بھاؤ پر خرید و فروخت کرنی ہے، باہر کے بھاؤ پر نہیں کرنی وغیرہ۔جولوگ سفر کر کے قرآن سیکھنے کے لئے آتے ہیں وہ بھی میرے نزدیک پایدنی سَفَرَةٍ میں شامل ہیں۔میں ایک واقعہ بتا دوں۔افریقہ میں سینیگال کے علاقہ میں ایک بزرگ گئے۔وہ علاقہ جغرافیائی لحاظ سے آج کے نقشے سے مختلف تھا۔انہوں نے جس قبیلے میں بھی اسلام کی تبلیغ کی وہاں سے دھتکارے گئے اور ان لوگوں نے آواز ہی نہیں سنی۔جب ان کے دو تین سال اس طرح ضائع ہوئے یعنی کوشش بے نتیجہ نکلی، تکلیفیں اٹھا کر پھرے، ان وحشیوں میں ان کو مزاج کے مطابق کھانا بھی نہیں ملتا ہوگا لیکن ان کے دل میں درد تھا کہ میں ان کو تبلیغ کروں اور یہ مسلمان ہو جا ئیں اور اسلام کا نور انہیں حاصل ہو اور یہ خدا کا پیار پانے والے ہوں۔پھر انہوں نے سوچا کہ اس بے نتیجہ کوشش سے اچھا تھا کہ میں کسی گوشہ تنہائی میں بیٹھ کر اپنے رب کی عبادت کرتا اور اس کی رضا کو تلاش کرتا۔اس علاقے میں دریائے سینیگال ایک بہت بڑا دریا ہے۔اس کے اندر