خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 499
خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۹۹ خطبه جمعه ۱۰ نومبر ۱۹۷۸ء طرف جاتی ہیں۔يُسَبِّحُ لِلهِ مَا فِي السَّمَوتِ وَ مَا فِي الْأَرْضِ کا ثبوت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود نے اور آپ کی معمور الاوقات زندگی نے دیا ہے آپ نے بھر پور زندگی گزاری اور اس زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں جو یہ ثابت نہ کرتا ہو کہ واقعہ میں اللہ تعالیٰ ان چاروں صفات کا مالک ہے جن کا یہاں ذکر کیا گیا ہے۔يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ کے ثبوت کے لئے اللہ تعالیٰ نے جو دوسرا سلسلہ بیان کیا ہے وہ قرآن کریم ہے یعنی وہ تعلیم جو آپ لے کر آئے۔چنا نچہ فرما یا یتلوا عَلَيْهِمْ التہ کہ وہ تعلیم خدا تعالیٰ کے احکام بتاتی ہے اور یہ اس کے ملک ہونے کے مقابلہ میں ہے۔خدا تعالی بادشاہ ہے اور بادشاہ کے احکام جاری ہوتے ہیں اور قرآن کریم نے وہ تمام احکام الہی بیان کئے ہیں۔دنیا کی پیدائش اللہ تعالیٰ کا فعل ہے اور قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا قول ہے۔بعض بیوقوف کہتے ہیں کہ مذہب اور سائنس کی لڑائی ہے۔ایک ہی ہستی کا قول اور اس کا فعل آپس میں کیسے لڑ سکتے ہیں؟ جو اس نے کیا اور جو اس نے کہا وہ متضاد ہو ہی نہیں سکتے۔ایسا خیال کرنا بھی نا معقول بات ہے یہ کائنات جو خدا تعالیٰ نے پیدا کی یہ اس کا فعل ہے اور جس طرح خدا تعالیٰ کے فعل میں ہمیں اس کی یہ صفات نظر آتی ہیں کہ وہ بادشاہ ہے وہ قدوس ہے، وہ عزیز ہے اور غالب ہے اور وہ حکیم ہے اسی طرح قرآن کریم جو اس کا قول ہے اس میں بھی ہمیں یہ صفات نظر آتی ہیں۔خدا تعالیٰ کی بادشاہت کے ساتھ تعلق رکھنے والے تمام احکام ایک کامل اور مکمل شریعت کے رنگ میں انسان کو دیئے گئے۔خدا تعالیٰ کا حکم کا ئنات میں چلتا ہے۔يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ (النحل: ۵۱) جو خدا انہیں کہتا ہے وہی کرتے ہیں لیکن کائنات کا ایک حصہ جو آزاد رکھا گیا تھا اس کی ہدایت کے لئے بھی اللہ تعالیٰ نے سامان پیدا کیا۔اس نے انسان کو کہا کہ تیری مرضی ہے تو اس پر عمل کر اور تیری مرضی ہے تو نہ کر۔لیکن اس کے لئے یہ کہنے کی ذرہ بھر گنجائش نہیں چھوڑی کہ اے خدا! جس طرح تو نے اس عالمین میں اپنے کامل حکم کے ساتھ خلق کا سلسلہ قائم کیا اور پیدائش کی اور اپنی صفات کے جلوے ان کے اندر رکھے۔اسی طرح تو نے ہمارے لئے ایک کامل کتاب کیوں نہیں بھیجی بلکہ جب انسان اس کا حامل ہونے کے قابل ہو گیا تو ایک کامل کتاب اس کو دے دی گئی يَتْلُوا عَلَيْهِمْ الته اور جس طرح بادشاہ کے احکام ہوتے ہیں اسی