خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 486
خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۸۶ خطبه جمعه ۳/ نومبر ۱۹۷۸ء بہر حال مجھے مصروف رکھنے کے لئے اور میری تربیت کے لئے مجھے کہا تھا کہ میں دو چار کمرے دیکھوں۔سردیوں کے دن تھے اور وہاں سردی زیادہ پڑا کرتی تھی۔جلسے کے ایام میں رضا کاروں کو ، کام کرنے والوں کو دو ایک بار چائے ملا کرتی تھی۔میں جب وہاں گیا تو ایک دروازہ تھوڑا سا کھلا تھا اور میرے آگے آگے ہی ایک چھوٹی عمر کا رضا کار چائے کا ایک آبخورہ لے کر کمرے میں داخل ہوا۔اتفاقاً اس کمرے میں ایک مہمان کو بخار چڑھا ہوا تھا اس نے کہا کہ تم میرے لئے چائے لے کر آئے ہو اور مجھے بہت لطف آیا کہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اس نے کہا کہ ہاں میں آپ کے لئے چائے لے کر آیا ہوں اور اس کو چائے پیش کر دی۔اگر وہ اتنا بھی کہہ دیتا کہ نہیں یہ تو میرے لئے تھی آپ پی لیں تب بھی وہ میرے نزدیک ایک جدال والی صورت بن جاتی۔بعض کے نزدیک نہیں بنتی ہوگی لیکن میری حساس طبیعت اس کو بھی یہی سمجھتی ہے کہ اس نے جھگڑا کیا مگر اس نے کوئی جھگڑا نہیں کیا۔غرض اجتماعات میں بہت سی چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں جو دوسروں کو تکلیف دے سکتی ہیں۔کوشش یہ ہونی چاہیے کہ چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی کسی کو تکلیف نہ پہنچے اور کوشش یہ ہونی چاہیے کہ چھوٹی بات ہو یا بڑی اگر تکلیف پہنچے تو آدمی اسے برداشت کر جائے۔جھگڑا نہیں کرنا۔اخلاقی لحاظ سے یہ پاکیزگی، یہ طہارت ، یہ صفائی ہماری فضا میں ہونی چاہیے۔گندگی سے پاک اور مطہر فضا ہونی چاہیے۔اس سلسلہ میں کچھ کام وقار عمل کے ذریعے کرنے کے ہیں اور کچھ کام سمجھانے کے ہیں۔چھوٹے بچوں کے دماغ میں بار بار یہ بات آنی چاہیے کہ یہ جماعت ہے اور یہ جماعت کا مقام ہے۔ایک بہت بڑا نمونہ دنیا کے سامنے پیش کیا گیا ہے اور جلسہ سالانہ اس کے مطابق ایک چھوٹا سا مظاہرہ ہے اس کے اندر وہ خوبیاں اور وہ صفات پائی جانی چاہئیں جن کی طرف قرآن کریم نے ایک آئیڈیل ہمارے سامنے رکھ کر ہمیں توجہ دلائی ہے کہ اپنے اندر یہ صفات پیدا کرو۔را کرو۔جلسہ کے لئے رضا کارانہ کاموں میں سے ایک تو وقار عمل ہے۔اس کا انتظام زیادہ تر خدام الاحمدیہ کے سپرد ہے اور کام میں انصار بھی اور اطفال بھی شامل ہوتے ہیں۔اس کے لئے ابھی سے دیکھیں اور مختلف قسم کی ظاہری صفائی جو ہونی چاہیے ابھی سے اس کی طرف توجہ دیں۔جس وقت جلسہ شروع