خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 476
خطبات ناصر جلد ہفتہ خطبہ جمعہ ۲۷/اکتوبر ۱۹۷۸ء مگر جہاں تک خدا کا سوال ہے کیا تم خدا کو بتاؤ گے اپنے دین کے متعلق کہ تم بڑے پکے مسلمان اور دیندار ہو؟ گوردوسرے لوگوں کی نسبت تمہارا اپنی ذات کے متعلق علم زیادہ ہے اس لحاظ سے تم اعلم ہو۔اپنے نفوس کو زیادہ جاننے والے ہو لیکن جہاں تک خدا تعالیٰ کا تعلق ہے تم نہیں کہہ سکتے کہ خدا تعالیٰ کی نسبت تم اپنے نفس کو زیادہ جانتے ہو۔تمہارے ظاہر و باطن کو اللہ تم سے بھی زیادہ جانتا ہے۔میں نے ایک دفعہ خطبہ جمعہ دیا تھا میں سمجھتا ہوں اخبار الفضل اسے دوبارہ شائع کرے۔میں نے اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کے حوالے سے بتایا تھا کہ کس طرح ہر آسمان پر ایسے فرشتے ہیں جن کا تعلق لوگوں کو مثلاً پہلے آسمان تک لے جا کر خدا کے حضور پیش کرنا ہوتا ہے۔بعض لوگوں کے متعلق ایسے فرشتوں کو بھی غلط نہی ہوتی ہے کہ ان کے بڑے اچھے اعمال ہیں لیکن خدا تعالیٰ فرشتوں سے کہتا ہے ان کے منہ پر مارو ان کے اعمال کیونکہ ان کے اندر ایسی کمزوریاں ہوتی ہیں جنہیں خدا تعالیٰ قبول نہیں کرنا چاہتا اور فرشتوں سے کہتا ہے ایسے اعمال کو اٹھا کر باہر پھینک دو۔پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے تم میں سے ہر شخص اپنے متعلق بھی نہیں کہہ سکتا کہ اس کی دینی حالت کیا ہے حالانکہ ہر شخص اپنے متعلق سب سے زیادہ جانتا ہے تو جن لوگوں کے متعلق تم اپنے نفس کی نسبت کم جانتے ہو ان کی دینی حالت کے متعلق کس طرح فتوی دے سکتے ہو؟ پس کوئی شخص دوسرے کے متعلق فتویٰ دے ہی نہیں سکتا کہ اس کی ایمانی کیفیت کیسی ہے، خدا تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔غرض ان آیات میں بڑا عجیب مضمون بیان ہوا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اتُعَلِمُونَ اللهَ دینکم کیا تم اپنے نفس کے متعلق ، اپنے دین کے متعلق خدا کو بتا سکتے ہو؟ جب ایسا نہیں کر سکتے تو پھر تم دوسروں کے متعلق کیسے بتا سکتے ہو کہ ان کی دینی حالت کیا ہے۔آیا ان کے اعمال کو خدا نے قبول کر لیا۔ان کے دل کی حالت کو پکے مسلمان کی حالت کے مطابق پایا اور اس کے اقرار میں کوئی بناوٹ اور کوئی تصنع نہیں پایا۔پس تم دوسرے آدمی کے متعلق کیسے کہہ سکتے ہو جب کہ پنے متعلق بھی نہیں کہہ سکتے۔وَاللهُ يَعْلَمُ مَا فِي السَّبُواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ