خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 33 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 33

خطبات ناصر جلد ہفتم ۳۳ خطبہ جمعہ ۱۱ فروری ۱۹۷۷ء اپنے نفس اور اپنے اہل کو بھی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی آگ سے بچانے کی کوشش کرتے رہو خطبه جمعه فرموده ۱۱ فروری ۱۹۷۷ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔آٹھ دس دن کی بیماری کے بعد میں آج گھر سے نکلا ہوں۔بیماری کا فلسفہ تو اسلام نے یہ بتایا ہے کہ وَ اِذَا مَرِضْتُ (الشعر آء: ۸۱) یعنی انسان خود اپنی غفلت اور بے پرواہی یا بعض دفعہ جان بوجھ کر بے احتیاطی کرنے کی وجہ سے بیمار ہو جاتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ شفا کے سامان پیدا کرتا ہے فَهُوَ يَشْفِينِ انسان کے ساتھ جو داعی الی الشر لگا ہوا ہے اس کا ایک چھوٹا سا مظاہرہ یہ ہے کہ انسان بیمار ہو جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن کریم اور احادیث سے استدلال کر کے ہمیں یہ بتایا ہے کہ ہر انسان کے ساتھ داعی الی الشر بھی لگا ہوا ہے اور داعی الی الخیر بھی لگا ہوا ہے یعنی بعض ایسی طاقتیں ہیں جو انسان کو شر کی طرف بلاتی ہیں جو انسان کو شیطان کی طرف کھینچ کر لے جانا چاہتی ہیں اور بعض ایسی قو تیں ہیں کہ جو انسان کو خیر اور بھلائی اور اللہ تعالیٰ کے مقرب کی طرف لے جانا چاہتی ہیں۔میں نے بتایا ہے کہ بیماری بھی ایک چھوٹا سا شر ہے جسے داعی الی الشر پیدا کرتا ہے اور بہت سی نیکیاں ہیں جن سے آدمی محروم ہو جاتا ہے مثلاً نماز با جماعت