خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 435
خطبات ناصر جلد ہفتم پورا کرنے والا ہے۔۴۳۵ خطبه جمعه ۱۵ ستمبر ۱۹۷۸ء میں آپ کو یہ بات ذہن نشین کرانا چاہتا ہوں کہ وہ جو ۱۹۷۰ء میں منصوبہ شروع کیا گیا تھا وہ بہت ہی دور رس نتائج کا حامل ہے اور آگے اور انشاء اللہ پھیلے گا اور اس کی برکات ظاہر ہوں گی لیکن وہ بہر حال اس لحاظ سے مختصر تھا کہ چھ ملکوں کے ساتھ اس کا تعلق تھا۔پھر تین سالوں کے بعد ۱۹۷۳ء میں صد سالہ جو بلی آگئی اور فضل عمر فاؤنڈیشن میں جماعت نے جو زائد چندے دیئے اس سے دُگنے سے بھی زیادہ نصرت جہاں سکیم میں انہوں نے چندے دیئے اور جب یہ سکیم آئی اور اس کا میں نے اعلان کیا تو شاید میں نے اعلان تو کیا تھا اڑھائی کروڑ کا اور جماعت نے وعدے دے دیئے دس کروڑ کے قریب۔بعض جگہ کمی بھی ہے لیکن مجھے کوئی فکر نہیں ہے۔جب جماعت نے وعدہ کیا ہے تو اللہ تعالیٰ مخلصین کی اس جماعت کو وعدہ پورا کرنے کی توفیق بھی ضرور دے دے گا۔جماعت کے دوستوں کے بچے بڑے ہوں گے وہ کمائیں گے دس گیارہ سال میں نہ کمانے والے بچے کمانے والوں کی صف میں آجائیں گے۔اس وقت جو ڈاکٹری اور انجینئر نگ کی آخری کلاس میں ہیں وہ اگلے سال کمانے لگیں گے۔جن لوگوں نے وعدے نہیں لکھوائے وہ آگے اور وعدے لکھوائیں گے اور یہ تو چلے گا انشاء اللہ۔اس وقت بھی قریباً ڈیڑھ کروڑ کے قریب جمع ہو چکا ہے۔اس لحاظ سے انشاء اللہ دس کروڑ روپے جمع ہو جائیں گے۔یہ صد سالہ جوبلی منصوبہ ) اپنی وسعت اور پھیلاؤ میں ایک بہت بڑا منصوبہ ہے اور اس کے لئے جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا تعالیٰ نے کہا تھا کہ قو میں تیار کی گئی ہیں تمہاری آواز پر لبیک کہہ کر اسلام میں داخل ہونے کے لئے۔یہ قو میں جو داخل ہونے کے لئے تیار کی گئی ہیں ان کو سبق دینے والے، ان کو قرآن پڑھانے والے بھی تو ہزاروں کی تعداد میں ضرورت ہے۔اس کے لئے ضروری نہیں ہوگا کہ واقف زندگی ہی ہو اس معنی میں کہ جامعہ احمدیہ میں پڑھا ہوا ہو کیونکہ میں ذاتی طور پر بیسیوں احمدی افراد کو جانتا ہوں جو جامعہ کے پڑھے ہوئے تو نہیں لیکن اُن سے اچھی تبلیغ کرنے والے اور اُن سے زیادہ وقت دینے والے ہیں جماعت کے کاموں کی خاطر۔اس لئے یہ تو ذہنیت ہے لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي كَبَدٍ۔رہین محنت ہے انسان،