خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 432
خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۳۲ خطبه جمعه ۱۵ ستمبر ۱۹۷۸ء اور مجھے تو قطعاً کوئی دلچسپی نہیں اس قسم کے روپے سے۔خدا کا مال ہے اس کی راہ میں خرچ ہونا چاہیے اور مجھے یقین ہے کہ آپ کو بھی ذاتی دلچسپی نہیں ہے کیونکہ ہم تو اللہ تعالیٰ کے عاجز بندے اور اس کے خادم ہیں۔اس کا ایک بڑا عجیب اثر وہاں یہ ہوا کہ خدا تعالیٰ کی ایسی حکمت تھی اس کا منصوبہ تھا بڑا عجیب جو میرے ذہن میں ڈالا گیا کہ اتنی بڑی رقم کا ایک دھیلا بھی ان ممالک سے باہر نہیں نکالا گیا۔یہ مقابلہ ہو گیا قریباً ڈیڑھ دو سو سال پہلے ان ممالک میں ہزاروں کی تعداد میں عیسائی پادری داخل ہوئے اور انہوں نے اعلان کیا کہ خداوند یسوع مسیح کی محبت کا پیغام لے کر تمہارے پاس آئے ہیں اور ان کے پیچھے ان ممالک کی فوجیں وہاں داخل ہوئیں اور میں جب ۱۹۷۰ء میں وہاں گیا ہوں تو میں نے ان سے باتیں کیں اور میں نے اُن سے کہا کہ یہ کہ کے تو یہ آئے تھے کہ خداوند یسوع مسیح کے پیار کا پیغام تمہارے پاس لے کر آئے ہیں لیکن سارا کچھ، پنجابی کا محاورہ ہے سب کچھ ہو نج کے لے گیا سب کچھ لے گئے اور تمہاری کچھ چیز ہی نہیں چھوڑی۔یعنی یہ ایک حقیقت ہے اور ان قوموں کو بھی پتا ہے کہ عیسائیت نے اُن کے ساتھ یہ کچھ کیا ہے۔سب سے پہلے میں نائیجیریا میں گیا تھا دو تین دن میں میری طبیعت پر یہ اثر تھا۔میں نے ایک دوست سے کہا میری طبیعت پر تو یہ اثر ہے کہ۔You had all۔You are deprived of all خدا تعالیٰ نے تمہیں سب کچھ دیا تھا اور تمہیں سب کچھ سے محروم کر دیا گیا۔دو دن کے بعد اُس وقت یعقو بو گوون سر براہ مملکت سے میری ملاقات تھی تو اُن کو میں نے کہا کہ ایک دوست سے میری بات ہوئی ہے اس کا حوالہ دے کر میری طبیعت پر یہ اثر تھا اور میں نے یہ کہا تو ان پر فوری رد عمل یہ ظاہر ہوا کہ کہنے لگے۔How true you are! How true you are ان سب کو پتا تھا اور ہم شروع سے گئے ہوئے ہیں لیکن اس قسم کی آمد جو ہے ان ملکوں میں وہ نہیں ہوئی لیکن جماعت احمد یہ تو پچاس سال سے بعض علاقوں میں کام کر رہی ہے ان کو اس وقت بھی میں نے کہا ہم تمہارے ملکوں میں آئے ہم اپنے ملک سے پیسے لائے اور تمہارے اوپر خرچ کئے۔تعلیم کے اوپر خرچ ہونے شروع ہو گئے تھے۔تربیت کے اوپر، اسلامی تعلیم دینے کے اوپر یہ ساری رقم