خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 424
خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۲۴ خطبه جمعه ۲۵ /اگست ۱۹۷۸ء بالکل تنگ نہیں کرتا لیکن میرا دل اس سے نہیں لگتا، میں نہیں کھاتا۔ہم اکٹھے نہیں رہ سکتے۔آپ نے اس کو طلاق دلوا دی۔اب یہ جدائی جو ہے یہ اور قسم کی جدائی ہے اگر تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کو یہ کہتے کہ پھر تم اس کو اس حالت میں کہ اخلاقاً اچھا ہےتمہارےساتھ اچھا سلوک کرتا ہے پھر دل نہیں ملے تمہارے تو تم اس کا مہر چھوڑ دو اور بھی جو کچھ لیا ہے وہ واپس کر دو تو یہ اور چیز ہو جائے گی لیکن یہ سمجھنا کہ بیوی کا خون چوس کر اس کے جذبات کو ٹھیس پہنچا کر ہم دنیا کی دولت کما لیں گے اور جماعت احمدیہ کا خلیفہ اس کی اجازت دے دے گا تو یہ بڑی حماقت ہوگی اس کا خیال دل سے نکال دینا چاہیے۔باقی میں اب اصل مضمون کی طرف آجاتا ہوں اور وہ ہے دعا۔میں ہر نماز میں قریباً آپ سب کے لئے دعائیں کرتا ہوں سارے بیماروں کے لئے دعائیں کرتا ہوں سارے طالب علموں کے لئے دعائیں کرتا ہوں۔سارے پریشان حالوں کے لئے دعائیں کرتا ہوں۔جو تنگی میں ہیں ان کی فراخی کے لئے دعائیں کرتا ہوں یہ میرا کام ہے میں آپ پر احسان نہیں جتانا چاہتا۔خدا تعالیٰ کے فضل سے میرے دل میں آپ کا پیار سمندر کی طرح موجیں مار رہا ہے۔خدا نے بنی نوع انسان کا پیار میرے دل میں پیدا کیا ہے۔یہ جو میں دورے پر جاتا ہوں اور پریس کانفرنسوں سے خطاب کرتا ہوں تو اُن سے میں یہی کہتا ہوں کہ تمہاری محبت میرے دل میں ہے وہ مجھے تمہارے پاس لے آتی ہے۔تم کدھر جا رہے ہو تم اپنی اصلاح کرو اور اپنے خلق کی طرف رجوع کرو تا کہ اس کی ناراضگی سے بچ جاؤ اور خدا سے دوری کے نتیجہ میں جو ہلاکت آتی ہے اس سے بچ جاؤ اور اکثر احباب بھی دعائیں کرتے ہیں۔مجھے شرم آ جاتی ہے بعض لکھ دیتے ہیں کہ ہم نے تو اپنی ساری دعا ئیں آپ کے لئے وقف کی ہوئی ہیں۔اللہ تعالیٰ اُن کی وہ ساری دعائیں قبول کرے جو اس وجہ سے وہ نہیں کر سکے اور ان کو کرنی چاہئیں تھی خدا تعالیٰ تو علام الغیوب ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ہمارا خدا اتنا پیار کرنے والا خدا ہے کہ ایک عارف جب خدا تعالیٰ کے حضور جھکتا ہے اور دعائیں کرتا ہے کسی چیز کے حصول کے لئے تو اس کی عارفانہ کوشش ہوتی ہے اور ایک دہر یہ سائنسدان ہے جو خدا کو مانتا نہیں اور ریسرچ میں ایک جگہ اٹک جاتا ہے جب وہ اٹک