خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 417 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 417

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۴۱۷ خطبه جمعه ۲۵ /اگست ۱۹۷۸ء سے نیچے اتر گئے۔کسری کا بھی بڑا طاقتور اور تجربہ کار جرنیل تھا اس نے کشتی میں طاقتور پہلوان کی طرح خالد کی باہوں (بازو) کو پکڑ لیا اور اپنے اُن آدمیوں کو جو اس نے در پردہ تیار کئے ہوئے تھے اشارہ کیا کہ اس حالت میں حملہ کر کے خالد کی گردن اڑا دیں۔عین اس وقت یہ ایک آدمی کی کمک جو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بھجوائی تھی یہ گھوڑے پر سوار تھے انہوں نے فوراً بھانپ لیا کہ غداری ہوگئی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ کسی اور سے مشورہ کرنے یا کسی اور کو ساتھ چلنے کے لئے کہنے کا وقت ہی نہیں تھا۔انہوں نے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور فوراً وہاں پہنچے جہاں وہ تین، چار ماتحت جرنیل اس غداری میں حصہ لینے یعنی خالد بن ولید کو قتل کرنے کے لئے تیار بیٹھے تھے۔انہوں نے ایک ایک کو قتل کیا اور جب قتل کر لیا ان تین یا چار کو یا جتنے بھی تھے، تو ( یہ ہے مسلمان کی شان اور اس کی جسے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے منتخب کیا تھا کہ ! کسرای کے غدار جرنیل کی باہیں بھی تو جکڑی ہوئی تھیں) اسے کہنے لگے اب تم اپنی Duel لڑو اور گھوڑے کو ایڑ لگا کر واپس آگئے حالانکہ اس کو قتل کر سکتے تھے لیکن یہ مسلمان کی شان کے خلاف تھا کہ اس نے جو غداری کی ہے اس کو اس رنگ میں سزا بھی دیں لیکن ایسا نہیں کیا تا کہ کل کو اسلام پر الزام نہ آجائے۔یہ مقام ہے خلافت کا۔قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں جن کو خلیفہ بناؤں گا اور یہ یادرکھیں خصوصاً نئی نسل کہ انتخاب ہوتا ہے لیکن خلیفہ اللہ تعالیٰ ہی بناتا ہے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں بعض لوگوں نے جو بعد میں الگ ہو گئے تھے ان میں سے کسی نے کہا کہ ہم نے خلیفہ منتخب کیا ہے آپ نے فرمایا میں تمہارے انتخاب خلافت پر تھوکتا بھی نہیں ہوں مجھے جس نے خلیفہ بنانا تھا اس نے بنا دیا۔میری خلافت کے تھوڑے ہی عرصہ بعد مجھے اللہ تعالیٰ نے الہاما فرمایا۔لِدَاوُدُ إِنَّا جَعَلْنَكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ اور یہ بتانے کے لئے کہ میں تیرے ساتھ ہوں خدا تعالی بڑا پیار کرنے والا ہے اس کے پیار کو حاصل کریں۔بالکل شروع خلافت کے زمانہ کی بات ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا جب وصال ہوا تو میں ٹی آئی کالج میں پرنسپل تھا۔کالج لاج میں میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہا کرتا تھا۔میں وہاں آیا میری طبیعت پر بڑا بار تھا کہ میں آپا صدیقہ ام متین صاحبہ کو یا