خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 416 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 416

خطبات ناصر جلد ہفتم خطبه جمعه ۲۵ /اگست ۱۹۷۸ء کے لئے چنے دنیا کا کوئی انسان یا منصوبہ خدا تعالیٰ کے اس انتخاب کو غلط کر سکتا ہے تو یہ غلط ہے کیونکہ دینے والا تو وہی خدا ہے۔عقل ہے، سمجھ ہے، ہمت ہے ، خدا کے در کے علاوہ آپ کون سی چیز کہاں سے لے کر آتے ہیں۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسا بوڑھا آدمی اور بے چین روح۔آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اتنا پیار تھا کہ بیان نہیں ہو سکتا۔ان کی زندگی کا مطالعہ کریں تو پتا لگتا ہے کہ ان کو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اتنا پیار تھا کہ آپ کے بعد ایک گھڑی زندہ رہنا ان کے لئے مشکل تھا لیکن جب خدا تعالیٰ نے اُن کو خلافت کے لئے چنا تو سارا عرب مرتد ہو گیا۔مگر خدا تعالیٰ کا وہ شیر جسے خدا نے خلافت کے لئے منتخب کیا تھا ، اس نے کہا میں ان مرتدین کی سرکوبی بھی کروں گا اور جو فوج حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے باہر بھجوانے کے لئے تیار کی تھی وہ بھی نہیں روکوں گا خواہ مدینہ کے اندر مسلمانوں کی لاشیں کتے گھسیٹتے پھریں میں وہ حکم نہیں بدلوں گا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو اتنی فراست اور ان کے فعل میں اتنی برکت عطا فرمائی کہ بعد میں ایک موقع پر خالد بن ولید نے کمک مانگی اور لکھا کہ میرے پاس چودہ ہزار فوج ہے اور یہی ہر میدان میں کسرای کی ساٹھ ستر بلکہ اسی لاکھ تازہ دم فوج کے ساتھ لڑیں گے اور ہر تیسرے چوتھے دن لڑائی ہوگی ہمارے پاس چودہ ہزار فوج ہے ان میں سے بھی کچھ شہید ہو جائیں گے کچھ زخمی ہو جائیں گے اس لئے کمک بھیجیں۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کی کمک بھیج دی۔یہ دیکھ کر صحابہ پیٹ اُٹھے۔صحابہ کا اپنا مقام تھا خلیفہ وقت کا اپنا مقام تھا۔صحابہ نے کہا یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔خالد بن ولید نے تفصیل سے خط لکھا ہے کہ ایسے حالات ہیں اور آپ ایک آدمی کی کمک بھیج رہے ہیں۔آرام سے ان کو کہ دیا کہ جس فوج میں اس جیسا آدمی ہو جسے میں کمک کے طور پر بھیج رہا ہوں وہ فوج شکست نہیں کھایا کرتی۔چنانچہ پہلے ہی معرکہ میں کسری کے جرنیل نے غداری کی جو عام طور پر دنیوی طاقتیں نہیں کیا کرتیں لیکن اس دن اس نالائق نے غداری کی اور Plan کیا کہ وہ خالد بن ولید کو مقابلہ کے لئے بلائے اور پھر چار پانچ آدمی آئیں اور ان کو قتل کر دیں۔اُس نے پہلے نیزہ بازی کی پھر تلوار کی جنگ کی اور پھر اس نے کہا آؤ کشتی کرلو۔چنانچہ دونوں گھوڑے