خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 368 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 368

خطبات ناصر جلد ہفتم ۳۶۸ خطبه جمعه ۱/۲۸ پریل ۱۹۷۸ء حضرت مسیح علیہ السلام کی زندگی سے تعلق رکھنے والے اور ان کی وفات سے تعلق رکھنے والے ہیں ( ہر انسان آخر مرتا ہے۔ان پر بھی ایک وقت میں موت آئی ) وہ حقائق کھل کر سامنے آنے شروع ہو گئے ہیں۔تاہم اس کا یہ نتیجہ تو نکلنا چاہئے تھا اور نکلا کہ وہ مفکرین جنہوں نے ایسی کتابیں لکھیں اور جو ابھی تک عیسائی ہیں ان کو بھی عیسائی دنیا نے پسند نہیں کیا اور بعض کو تکالیف پہنچانے کی کوشش بھی کی۔یہ تو ہوتا ہی رہتا ہے کوئی ایسی بات نہیں لیکن یہ کانفرنس جو ۱۲، ۱۳، ۴ رجون کو ہو رہی ہے جب اس کا ذکر اخباروں میں آنا شروع ہوا تو اس کی اچھی خاصی مخالفت شروع ہو گئی ہے اور یہ خوشی کی بات ہے اگر مخالفت نہ ہوتی تو ہم پریشان ہوتے کہ کیا وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس کوشش کو قبول نہیں کیا۔غرض بعض طرف سے بڑے غصے کا اظہار ہورہا ہے لیکن غصہ اپنی ذات میں بے جا ہے۔میں نے بڑا سوچا مجھے تو کبھی غصے کی کوئی معقول دلیل نظر نہیں آئی۔جس چیز کو تمہیں عقلی دلائل کے ساتھ یا آسمانی نشانوں کے ساتھ یا معجزانہ قبولیت دعا کے ذریعہ سے صحیح ثابت کرنا چاہئے اس کے مقابلہ میں محض غصہ دکھا دینا تو کسی چیز کو سچ ثابت نہیں کرتا۔بہر حال ہمارا کام غصہ کرنا نہیں۔جہاں تک ہمارا تعلق ہے ہمارا کام یہ ہے کہ ہم دلائل کے ساتھ اور پیار کے ساتھ اور دعاؤں کی قبولیت کے ساتھ اور خدا تعالیٰ کی متصرفانہ اور معجزانہ طاقتوں کا ثبوت دے کر خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت انسان کے دل میں بٹھانے کی کوشش کریں اور عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ اور متضرعانہ گریہ وزاری کے ساتھ اور خدا تعالیٰ کے دامن کو پکڑ کر اس سے چمٹ کر اس سے یہ کہیں کہ اے خدا ! تیری توحید اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کے قیام کے لئے جو کچھ ہم کر رہے ہیں ہماری ان حقیر کوششوں میں برکت ڈال اور ہماری کوششوں کے مقابلہ میں اتنے عظیم نتائج نکال کہ دیکھنے والے کو کوشش اور نتیجے کا آپس میں کوئی تعلق نظر نہ آئے۔پس آپ دعائیں کریں مبلغین کے لئے چاہے ان کا تعلق پاکستان سے ہے یا دوسرے ممالک سے ہے، جو ملک ملک اور علاقہ علاقہ اور ریجن ریجن میں دینِ اسلام کی اشاعت کے لئے ہر قسم کی قربانیاں دے رہے ہیں۔خدا تعالیٰ کے حضور اس کو قربانی کہتے ہوئے بھی شرم آتی ہے لیکن بہر حال وہ خدا تعالیٰ کے حضور کچھ پیش کر رہے ہیں، خدا تعالیٰ ان کی اس پیشکش کو خواہ وہ کتنی