خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 24
خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۴ خطبہ جمعہ ۲۸ / جنوری ۱۹۷۷ء پایا کہ اس کی بشارتیں خدا تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے سے دی تھیں۔پس یہ جو آج کی قرآنی تفسیر ہے وہ بطونِ قرآنی اور روحانی علوم اور دینی باتیں ہیں جن کا تعلق اس زمانہ سے خاص طور پر ہے۔بنیادی باتیں تو وہی ہیں کیونکہ تفصیل میں زمانہ بدلتا ہے بنیاد اپنی جگہ پر قائم رہتی ہے۔پس جن تفصیلی باتوں کی اور جن چھپے ہوئے بطون کی آج کے زمانہ کو ضرورت تھی مہدی علیہ السلام کو دیئے گئے اس لئے اب احباب جماعت کا یہ فرض ہے کہ وہ خود بھی علوم جدیدہ قرآنی سے واقفیت حاصل کریں اور اپنے ذہن میں ان باتوں کو تازہ رکھیں اور اپنے بھائیوں کو بھی بتاتے رہیں۔یہ ذکر گھروں میں بھی ، مساجد میں بھی اور مجلسوں میں بھی ہوتا رہنا چاہیے۔غرض وقف عارضی کے وفود ذہنی طور پر تیار ہو کر جاتے ہیں تا کہ وہ دوسروں کے لئے نمونہ بن سکیں۔جہاں تک اعتقادی باتوں کا تعلق ہے ان کا دہرانا بھی ضروری ہے۔ہماری چودہ سو سالہ تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اس میں غفلت کے نتیجہ میں کبھی ایک جگہ اور کبھی دوسری جگہ اسلامی عقائد میں بہت سی بدعات شامل ہو گئیں اور پھر وہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب بندوں کو کھڑا کیا جن کو ہم مجدد اور مصلح کہتے ہیں۔ولی اور مقربین خداوند کہتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے پیارے بندے۔ان کو کہا گیا کہ بدعات کو دور کرو اور اسلام کی خالص تعلیم کو پھر قائم کرو۔جن باتوں کو لوگ بھول گئے ہیں وہ ان کو یاد کرواؤ اور صحیح، بچے اور حقیقی اسلام پر مسلمان کہلانے والوں کو قائم کرو۔اس کی ہزار با مثالیں ہماری تاریخ میں پائی جاتی ہیں۔پس ایک پہلو تو یہ ہے کہ قرآن کریم کی حفاظت معنوی کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم انتظام کیا ہے۔اپنے وعدہ کو پورا کرنے کے لئے اور اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان ظاہر ہوتی ہے کیونکہ آپ رسول اور نبی ہیں قیامت تک کے مسائل کو حل کرنے والے اور اس شریعت کا ملہ کو لانے والے جس سے باہر کسی اور شریعت کی ضرورت نہیں اور جس کے بعد کسی اور قانون کی حاجت نہیں لیکن انسان بھول جاتا ہے وہ روحانی طور پر نیم مردہ یا مر جاتا ہے تب اللہ تعالیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل انسان کو زندہ کرنے کا انتظام کرتا ہے۔جگہ جگہ اور زمانہ زمانہ میں ہمیں یہ نظر آتا ہے اور اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہمیں یہ انتظار نہیں کرنا چاہیے کہ ہم غفلت کی نیند سو جائیں اور ہمیں کوئی جگانے والا آئے۔ہم بدعات کا