خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 351 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 351

خطبات ناصر جلد ہفتم ۳۵۱ خطبه جمعه ۲۴ / مارچ ۱۹۷۸ء یا پچاس گنازیادہ ہو گئے ہیں مگر ایک رات بھی یہ فکر نہیں رہی کہ پیسہ نہیں ہے یا کارکنوں کو تنخواہ نہیں ملے گی وغیرہ بلکہ خدا تعالیٰ نے بڑا فضل کیا ہے۔میرے خیال میں لنگر خانہ پر بشمولیت جلسہ سالانہ کے مہمان ۱۰ ، ۱۵ لاکھ روپیہ سال کا خرچ ہوتا ہوگا اور ہونا چاہیے۔اب ہم پیسے بچانے کے لئے یہ تو نہیں کر سکتے کہ جو دوست جمعہ پر باہر سے آتے ہیں اور لنگر کے مہمان ہوتے ہیں یا جو جمعرات کو عام ملاقات کے لئے آتے ہیں اور ان میں ہمارے وہ دوست بھی ہوتے ہیں جو ابھی احمدی نہیں ہوئے وہ اپنے دوستوں کے ساتھ ربوہ دیکھنے کے لئے اور باتیں سننے کے لئے آجاتے ہیں یا جمعرات کی ملاقات کے لئے دوست بدھ والے دن بھی آجاتے ہیں سوسو، دو دو سو آدمی آ جاتا ہے۔ان کو ہم کہیں کہ جی ہم تمہیں لنگر میں روٹی نہیں دے سکتے ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے۔میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ خدا نے پیسے دے دیئے ہیں۔اللہ تعالیٰ بڑا فضل کرنے والا ہے۔ہمیں تو پتا ہی نہیں لگا کہ کب اور کس طرح اس نے پیسے دے دیئے۔میں نے اپنے بچپن کا بتایا ہے کہ خود میرے کانوں نے مشاورت میں یہ بحث سنی ہے کہ پانچ پانچ ، چھ چھ مہینے ہو گئے ہیں کہ کارکنوں کو تنخواہ نہیں مل سکی اور وہ قرض پر زندہ ہیں۔اب خدا نے وہ ساری فکریں دور کر دیں لیکن اس لئے تو دور نہیں کیں کہ ہم آرام سے سوجائیں بلکہ اس لئے دور کی ہیں کہ ہم اپنی توجہ کو دوسرے زیادہ ضروری کاموں کی طرف پھیر دیں اور غلبہ اسلام کی مہم کے اندر ایک تیزی اور شدت پیدا کریں۔غرض پیسہ ایک ذیلی چیز ہے۔یہ نمبر ایک نہیں ہے بلکہ میرے خیال میں یہ سب سے آخر میں ہے بہر حال ہر ضروری کام کے لئے کسی نہ کسی رنگ میں پیسے کی ضرورت پڑتی ہے اور اس کے لئے جماعت کی شوری ایک بجٹ منظور کرتی ہے اور پیسہ تقسیم ہو جاتا ہے۔کئی خرچ بجٹ سے زیادہ ہو جاتے ہیں اور کئی خرچ بچ جاتے ہیں۔میں نے غالباً پہلے کسی خطبہ میں اس کے متعلق نہیں بتایا اب بتا دیتا ہوں کیونکہ جماعت کو بھی پتا لگنا چاہیے۔ایک وقت میں میں نے دیکھا ( اس وقت میں غالباً صدر صدر انجمن احمد یہ تھا ) کہ جن شعبوں میں پیسہ بچ جاتا ہے وہ سال کے آخر میں بلا ضرورت ہی اسے خرچ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ پیسے بچے ہوئے ہیں آؤ ان کو خرچ کر دیں اور جن