خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 350
خطبات ناصر جلد ہفتم ۳۵۰ خطبه جمعه ۲۴ / مارچ ۱۹۷۸ء میں بتارہا تھا کہ چوتھی نسل کو ہر پہلو سے سنبھالنا ہے اور پھر تبلیغ کے لئے مبلغ تیار کرنے ہیں وغیرہ اور اس کے لئے پیسوں کی ضرورت ہے لیکن پیسہ اصل مقصد نہیں ہے بلکہ یہ ہماری دوسری زیادہ اہم ذمہ داریوں کو نباہنے کا ایک ذریعہ ہے۔یہ بات میں احمدیوں کو بھی بتارہا ہوں اس لئے کہ بعض دفعہ یہ دیکھ کر بڑا دکھ ہوتا ہے کہ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے پورا چندہ دے دیا ہے اور اب ہمیں مسجدوں میں جا کر نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں رہی۔ایسے کمزور بھی ہوتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ جی ہم نے پیسوں کی قربانی کر دی ہے لیکن پیسوں کی قربانی نہیں بلکہ تمہارے نفسوں کی قربانی چاہیے۔اپنے نفسوں کو خدا کے حضور پیش کر دو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اسلام کی تعریف یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے حضور رضا کارانہ طور پر اپنی گردن اس طرح رکھ دینا جس طرح بکرے کی گردن قصائی جبراً اپنے سامنے رکھ دیتا ہے اور اس کے گلے پر چھری پھیر دیتا ہے۔وہاں تو جبر ہو رہا ہے لیکن یہاں انسان رضا کارانہ طور پر اپنی گردن خدا کے حضور پیش کر دیتا ہے۔خدا تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھریوں سے ذبح کرنے کے لئے نہیں بھیجا اور مارنے کے لئے نہیں مبعوث کیا بلکہ جیسا کہ قرآن کریم نے دنیا کے ہر گوشے میں اعلان کر دیا ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کو زندہ کرنے کے لئے آئے ہیں۔زندگی کے اس پیغام کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے کے لئے مادی ذرائع کی بھی ضرورت ہے اس کے بغیر تو یہ کام نہیں ہو سکتا۔ہمارے مبلغ باہر جاتے ہیں ان کے کرایوں پر خرچ ہوتا ہے میرے خیال میں اس پر کئی لاکھ روپیہ خرچ ہو جاتا ہے۔مبلغوں کو تیار کرنے کے لئے اور ان کے ریفریشر کورسز کے لئے رقم کی ضرورت ہے۔پھر لنگر خانہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انگر خانے کی اہمیت پر اور اس کی افادیت پر بڑا زور دیا ہے اور جو بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائی ہے وہی حق ہے۔اس کی بڑی ضرورت ہے۔قادیان میں جماعت پر غربت کا ایک ایسا زمانہ تھا کہ یہ بات میرے حافظے میں ہے اور جب میں بچہ تھا تو بعض مشاورتوں میں میرے کانوں نے یہ بحث سنی کہ کارکنوں کو پانچ پانچ ، چھ چھ مہینے سے تنخواہ نہیں ملی کچھ فکر کرو۔لیکن اب اللہ تعالیٰ کا اتنا فضل ہے کہ اخراجات پہلے سے شاید بیس گنا زیادہ ہو گئے ہیں