خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 348 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 348

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۳۴۸ خطبه جمعه ۲۴ / مارچ ۱۹۷۸ء بالکل سمجھ نہیں آرہی۔وہ تو ہمیں پاگل سمجھتے ہوں گے لیکن خدا تعالیٰ ہمیں پاگل نہیں سمجھتا۔پیار اور جنون دونوں کو دنیوی محاورہ میں بعض دفعہ ایک ہی چیز قرار دے دیا جاتا ہے چنانچہ دنیا کہتی ہے جنون مگر خدا کہتا ہے مجھ سے پیار۔پس اس غرض سے کہ اگلی نسلیں بھی خدا تعالیٰ سے ویسا ہی پیار کرنے لگیں جیسا کہ انہیں کرنا چاہیے اور پھر خدا سے پیار کر کے وہ اپنے زمانہ کے بوجھوں کو برداشت کرنے کے لئے اس سے طاقت حاصل کرنے والے بنیں ان کی تربیت کی ضرورت ہے۔طاقت ہم اپنے گھر میں نہیں پیدا کر سکتے جب تک خدا جو تمام طاقتوں کا سر چشمہ اور منبع ہے ہمیں طاقت عطا نہ کرے ہم میں طاقت پیدا نہیں ہو سکتی۔دین کی راہ میں قربانی کی طاقت اموال سے نہیں پیدا ہوتی۔جب کفار مکہ نے اسلام کو مٹانے کے لئے مدینہ پر چڑھائیاں کرنی شروع کیں اور اسلام کے خلاف مستقل طور پر اعلانِ جنگ کردیا تو جو بدر کے میدان کی طرف ۳۱۳ مسلمان گئے تھے ان کے پاس اپنی کیا طاقت تھی ؟ ننگے پاؤں پہنے کو کپڑ انہیں ، کند اور ٹوٹی ہوئی تلوار ہیں، کیا وہ طاقت تھی ان کی؟ اپنی طرف سے تو وہ وہی طاقت پیدا کر سکے تھے نا۔لیکن ان کو جو خدا نے طاقت دی تھی وہ یہ تھی کہ وہ جو سیوف ہندی پر ناز کرنے والے تھے ان کو انہوں نے شکست دے دی۔سیف ہندی یعنی ہندوستان کی تلوار اس وقت وہاں بڑی مشہور تھی اور بڑی مقبول تھی بہت اعلیٰ درجے کی بنی ہوتی ہے اور اس کی بڑی کاٹ ہے اور بڑی ضرب ہے اور بڑا مقابلہ کرتی ہے اور لڑائی میں بڑی قابل اعتماد ہے جب تلوار میں ٹکراتی ہیں تو وہ ٹوٹتی نہیں لیکن ان ٹوٹی ہوئی تلواروں نے ان کو توڑ دیا۔یہ معجزہ اس طاقت نے نہیں دکھایا تھا جو طاقت ان غریبوں نے ٹوٹی ہوئی تلوار میں اکٹھی کر کے جمع کی تھی بلکہ یہ معجزہ اس طاقت نے دکھایا تھا جو خدا نے ان کو اپنے حضور سے دی تھی اور کہا تھا کہ میں تمہاری ٹوٹی ہوئی تلواروں کو کامیاب کر دوں گا اور غلبہ دے دوں گا اور کفار کی تلوار باوجودد نیوی لحاظ سے زیادہ طاقتور ہونے کے ناکام ہو جائے گی۔لیکن تلوار یا ایٹم بم تو بڑی ذیلی سی چیزیں ہیں۔اصل چیز تو انسانی فراست ہے۔چنانچہ وہ جو کسری کے تعلیمی اداروں میں پڑھے ہوئے بڑے تعلیم یافتہ لوگ تھے اور جو قیصر کے علاقوں کی درسگاہوں میں اور بڑے بڑے لاٹ پادریوں سے پڑھے ہوئے لوگ تھے جب وہ مقابلہ پر