خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 346 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 346

خطبات ناصر جلد ہفتم ۳۴۶ خطبه جمعه ۲۴ / مارچ ۱۹۷۸ء اس نسل کو سنبھالنا خاص طور پر ضروری ہے۔اس میں ایک تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کی چوتھی نسل ہے اور ایک جماعت کی چوتھی نسل ہے اور میں اس بات پر غور کر رہا تھا تو مجھے خیال آیا کہ جماعت کے لحاظ سے چوتھی نسل میں جو کہ جماعت کی ذمہ داری بن گئی ہے وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کے آبا و اجدا دتین نسلوں تک جماعت کی مخالفت کرتے رہے اور چوتھی نسل جماعت میں داخل ہوگئی۔ایسے لوگ ہر روز داخل ہو رہے ہیں۔آپ کے سامنے ہر روز کی تصویر نہیں آتی میرے سامنے تو آتی ہے کہ جو لوگ آج احمدیت میں داخل ہورہے ہیں یا کل ہفتہ والے دن داخل ہوں گے یا پرسوں اتوار کے دن داخل ہوں گے ان کے آبا و اجداد تو احمدی نہیں تھے۔ان میں سے بعض سخت مخالفت کرنے والے تھے، بعض بے تعلق رہنے والے تھے اور ان کو کوئی توجہ نہیں تھی ، بعض سمجھتے تھے کہ حقیر سی جماعت ہے ہمیں اس کی طرف توجہ کرنے کی کیا ضرورت ہے وغیرہ بہر حال ان کا اس مہم میں کوئی حصہ نہیں تھا لیکن خدا تعالیٰ اپنے رحم کے نتیجہ میں ان کو اس طرف لے آیا اور وہ اس بات کی طرف متوجہ ہوئے کہ یہ زمانہ اسلام کے غلبہ کا ہے، اس زمانہ میں اصلاح کی ضرورت ہے، اس زمانہ میں دیانت اور امانت کو قائم کرنے کی ضرورت ہے، اس زمانہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر چلنے کی ضرورت ہے اور اس زمانہ میں اسلام کو غالب کرنے کے لئے دنیا میں عملاً اسلام کو پیش کرنے کی ضرورت ہے۔چنانچہ وہ جماعت میں داخل ہو گئے۔یورپ وغیرہ میں جب ہم اسلام کی تعلیم پیش کرتے ہیں تو بسا اوقات یہ سوال کر دیا جاتا ہے کہ تعلیم تو بہت اچھی ہے لیکن ہمیں یہ بتائیں کہ اس پر عمل کہاں ہو رہا ہے اس سوال کا جواب میری اور آپ کی زبان نے نہیں دینا بلکہ اس کا جواب میرے اور آپ کے عمل نے دینا ہے۔جس زمانہ میں ہم عنقریب داخل ہو رہے ہیں اس میں ہم امید رکھتے ہیں کہ غیر مسلم دنیا کثرت سے اسلام کی طرف متوجہ ہو کر اسلام میں داخل ہونا شروع ہو جائے گی۔وہ لوگ نمونے کا اور دلائل کا اور آسمانی نشانوں کا مطالبہ کریں گے وہ پوچھیں گے کہ اسلام لا کر ہمیں کیا حاصل ہوگا ؟ ان کو خدا کا پیار حاصل ہوگا اور سب سے بڑی چیز تو یہی ہے۔وہ کہیں گے کہ اگر خدا کا پیار حاصل ہوتا ہے تو