خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 21
خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۱ خطبہ جمعہ ۲۸/جنوری ۱۹۷۷ء تحریک وقفِ عارضی تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى کی عملی تفسیر ہے خطبه جمعه فرموده ۲۸ /جنوری ۱۹۷۷ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔مجھے بتایا گیا ہے کہ وقف عارضی کی جو تحریک جاری کی گئی تھی اس کی طرف احباب جماعت اب اس قدر توجہ نہیں دے رہے جتنی شروع میں دی اور جتنی توجہ کی ضرورت ہے۔تحریک وقف عارضی یہ ہے کہ احمدی دوست کم از کم پندرہ دن کے لئے ( دو ہفتہ سے چھ ہفتہ تک ) عارضی طور پر وقف کریں اور اپنے خرچ پر اُس جگہ جائیں جہاں اُن کو بھیجا جائے اور اپنے خرچ پر وہاں یہ ایام گزار ہیں۔اس تحریک کے پیش نظر ذہن میں بہت سے مقاصد تھے۔اول تو یہ کہ جماعت احمد یہ جسے اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں قائم کیا ہے اس کا ایک بڑا مقصد یہ ہے کہ نوع انسانی کو محبت کے رشتوں میں باندھ کر اُمتِ واحدہ بنادیا جائے اسی لئے ہمارا جو سب سے بڑا اکٹھ یعنی جلسہ سالا نہ ہوتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کی اغراض بتاتے ہوئے ایک فائدہ یہ بھی بتایا ہے کہ دوست آپس میں ملیں اور واقفیت پیدا ہو اور جو اُخوت کا جذبہ ہے وہ اُبھرے اور وہ لوگ جو ایک دوسرے سے فاصلوں پر رہائش رکھتے ہیں وہ ذہنی اور قلبی طور پر ایک دوسرے کے قریب آجائیں۔ان کا پیار بڑھے اور وہ آپس میں بھائی بھائی بن جائیں۔