خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 319 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 319

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۳۱۹ خطبہ جمعہ ۳۰؍ دسمبر ۱۹۷۷ء اس کی تعریف کرتے رہیں تب بھی شکر کا اور تعریف کا اور حمد کا حق ادا نہیں ہو گا لیکن پھر یہ خدا تعالیٰ کا احسان ہے کہ وہ یہ نہیں کہتا کہ میرا پورا شکر ادا کرو اور جتنا تم پر میرا حق واجب ہے اس کے مطابق میری حمد کرو بلکہ وہ یہ کہتا ہے کہ جتنی تم میں طاقت ہے اس کے مطابق کر دو اور میں اسی ادھورے کو پورا سمجھ لوں گا یہ خدا کی شان ہے۔پس ہمیں خدا تعالیٰ کا بہت شکر ادا کرنا چاہیے اور اس کی حمد کرتے رہنا چاہیے کہ اس نے بڑا فضل کیا اور جلسہ بہت کا میاب رہا اور اس لحاظ سے بھی بہت کامیاب رہا کہ ہمارے وہ دوست بھی جن کا جماعت سے تعلق نہیں ہے بہت کثرت سے اس جلسہ میں شمولیت کے لئے تشریف لائے۔ایک ضلع تو سب سے آگے نکل گیا اس ضلع سے آنے والوں کی جو معلوم تعداد ہے وہ ڈیڑھ ہزا ر ہے۔ساری جماعت تو مجھ سے مل بھی نہیں سکتی اور نہ ہی اتنا وقت ہوتا ہے لیکن جو تھوڑے سے مل سکتے ہیں ان سے ملاقاتوں کے دوران پتا لگتا تھا کہ کراچی سے لے کر پشاور تک بڑی کثرت سے ایسے دوست آئے جن کا ابھی جماعت سے تعلق نہیں ہے۔ان لوگوں کا یہ حق ہے کہ وہ دیکھیں اور سنیں کہ جماعت کیا ہے اور اس کے عقائد کیا ہیں؟ اور جماعت کے متعلق اپنے فیصلوں کا انحصار محض شنید پر نہ رکھیں بلکہ دید بھی اس میں شامل ہو اور پھر شنید بھی غیر کی نہیں بلکہ اپنے کانوں سے ہماری زبانوں سے نکلے ہوئے الفاظ سنیں اور پھر فیصلہ کریں کہ ہمارے عقائد کیا ہیں اور کیا وہ ان سے متفق ہیں یا نہیں ہیں۔یہ فیصلہ تو انہوں نے ہی کرنا ہے لیکن ہم یہ چاہتے ہیں کہ پیار اور محبت کے ساتھ ساری دنیا ہماری باتوں کو سنے اور پھر جو فیصلہ کرنا ہے کرے۔پس ان کا یہ حق ہے کہ وہ ہماری باتیں سنیں اور ہمارا یہ حق ہے کہ ہم اپنی باتیں انہیں سنائیں ورنہ اگر کوئی غلط فہمیاں پیدا ہوں اور ان کی وجہ سے دنیا میں کوئی گناہ پیدا ہو تو ہم ذمہ دار ہیں۔میں اس وقت ساری دنیا کی نہیں اس کرہ ارض کی بات کر رہا ہوں اگر اس میں کوئی خرابی پیدا ہو اور ہم اسے دور کرنے کی کوشش نہ کریں تو ہم ذمہ دار ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس گناہ سے بھی محفوظ رکھے۔پس کثرت سے خدا تعالیٰ کی تسبیح کریں اور تحمید کریں اور اس کی قدوسیت اور اس کی پاکیزگی اور اس کی عظمت اور اس کے جلال اور اس کی رفعت اور اس کے علو اور اس کی شان کو