خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 306 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 306

خطبات ناصر جلد ہفتم خطبہ جمعہ ۲۳؍ دسمبر ۱۹۷۷ء کے لئے ہر انسان کو خود کوشش کرنی پڑتی ہے کسی دوسرے کی کوشش کام نہیں آسکتی۔تیسرے اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جو شخص خدا کے حضور عاجزا نہ جھکتا ہے اور قرب الہی کو پانے کے لئے ہدایت کی راہوں کو اختیار کرتا ہے اور خدا سے قریب سے قریب تر ہونے کی جد و جہد کرتا ہے تو خدا تعالیٰ کی قدرت ، عظمت اور جلال غیر اللہ کو اس بات سے منع کرتے ہیں کہ وہ انسان کو اس کی کوشش سے باز رکھے یا اس کی کوشش کو ناکام بنادے یعنی یہ اعلان کرے کہ اس کی کوشش ناکام ہوگی۔ویسے شیطان اور اس کا گروہ انسان کے دل میں وسوسے ڈالتے رہتے ہیں لیکن میں اس وقت شیطانی طاقتوں کی بات نہیں کر رہا، میں تو یہ بتارہا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی طرف کوئی شخص بلند ہورہا ہو۔وہ خدا کی راہ میں آگے بڑھ رہا ہو تو کسی اور کو یہ طاقت نہیں کہ وہ اس کی ، ٹانگ پکڑ کر پیچھے کھینچ لے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو طاغوتی طاقتیں ہیں خدا کے بندوں پر ان کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور ان کا کوئی حربہ کارگر نہیں ہوتا۔وہ اپنے منصوبہ میں کامیاب نہیں ہوتیں۔چوتھے اس آیت میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انسان کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ وہ اپنی سی کوشش کر دکھائے۔بات یہ ہے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور عاجز بندہ جو کچھ بھی پیش کرتا ہے اس کی تو کوئی حیثیت ہی نہیں اور جو تھوڑا بہت وہ پیش کرتا ہے وہ اس کی ملکیت ہی نہیں۔مالک تو اللہ ہے اور انسان کے پاس جو کچھ ہے وہ بطور امانت کے ہے۔اگر انسان کو یہ کہا جاتا کہ وہ خدا کی عظمتوں کے مطابق کوشش کرے یا اگر یہ کہا جاتا کہ خدائی جلال کے مدنظر جتنی طاقت خرچ ہونی چاہیے ہر انسان لقائے الہی کے لئے اتنی طاقت خرچ کرے تو کوئی ایک انسان بھی خدا تعالیٰ کے قرب کو حاصل نہ کر سکتا۔اس لئے کہا یہ گیا ہے کہ اے انسان! (انسانوں ، میں سے ہر فر د مخاطب ہے ) تو اپنے دائرہ استعداد کے اندر جتنی کوشش کر سکتا ہے اتنی کوشش تجھے کرنی پڑے گی تب خدا کا قرب تجھے حاصل ہوگا اور تیرے لئے وصل اور لقائے الہی کے سامان پیدا ہوں گے۔اگر تیری طاقتیں خدا اور غیر اللہ میں بٹ جائیں گی ، اگر تو کچھ خدا کے حضور پیش کرے گا اور کچھ اللہ کے سوا دوسری ہستیوں کے سامنے پیش کرے گا ، اگر تیرا سب کچھ خدا کے