خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 246 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 246

خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۴۶ خطبہ جمعہ ۲۱ /اکتوبر۱۹۷۷ء مثل بن گئی اور خدا تعالیٰ کی صفت کی مانند بن گئی۔پھر انسان کی بینائی ہے۔انسان اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے لیکن دیکھنے کے لئے صرف آنکھ کی ضرورت نہیں بلکہ وہ روشنی کا بھی محتاج ہے۔آنکھ کے ہوتے ہوئے بھی اگر بالکل اندھیری کوٹھڑی ہو اور ذرا بھی روشنی نہ ہو تو وہ دیکھ نہیں سکتا اور پھر اس کی نظر محدود ہے، کئی لحاظ سے محدود ہے لیکن یہاں پھر میں فاصلے کی مثال دے دیتا ہوں۔کچھ فاصلے کے بعد انسان کی نظر دیکھ نہیں سکتی بالکل صحیح اور صحتمند نظر بھی نہیں دیکھ سکتی۔پس انسان کی نظر محدود ہے۔وہ روشنی کی محتاج ہے، آنکھ کی محتاج ہے اور پھر محدود ہے لیکن خدا تعالیٰ بغیر جسمانی آنکھوں کے دیکھتا ہے اور اس کی بینائی ذاتی روشنی سے ہے۔اللهُ نُورُ السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ (النور : ۳۶) اور اس کی نظر غیر محدود ہے۔اسی طرح انسان کی بعض ایسی صفات ہیں جن سے وہ علم حاصل کرتا ہے۔انسان کا علم کسی معلم کا محتاج ہے اور پھر محدود ہے۔یہ معلم کوئی دوسرا انسان بھی ہوسکتا ہے، یہ معلم واقعات بھی ہو سکتے ہیں، یہ معلم ماحول بھی ہو سکتا ہے، یہ معلم سائنس کی لیبارٹری میں سائنس کا آپر یٹس بھی ہوسکتا ہے۔بہر حال انسان علم کے حصول کے لئے کسی معلم کا محتاج ہے اور اس کے باوجود محدود ہے۔انسان غیر محدود علم حاصل نہیں کر سکتا مگر اللہ تعالیٰ کا علم کسی جہت سے بھی کسی معلم کا محتاج نہیں ہے اور بائیں ہمہ وہ غیر محدود ہے۔اس لحاظ سے خدا کے علیم ہونے اور انسان کے بھی عالم ہونے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔کچھ مشابہت کے باوجود ہم نہیں کہہ سکتے کہ خدا تعالیٰ اپنی صفات میں بے مثل و مانند نہیں بلکہ اس کے باوجود خدا تعالیٰ اپنی صفات میں بے مثل و مانند ہے۔اسی طرح انسان کی پیدا کرنے کی قدرت کسی مادہ کی محتاج ہے اور وقت کی محتاج ہے لیکن خدا تعالیٰ کی پیدا کرنے کی قدرت نہ مادہ کی محتاج ہے اور نہ وقت کی محتاج ہے۔انسان موٹر بناتا ہے، ہوائی جہاز بناتا ہے، آٹا پینے کی مشین بناتا ہے، کپڑا بننے کے کارخانے بناتا ہے وغیرہ وغیرہ ہزاروں چیزیں ہیں جن میں خلق کا ایک پہلو آ جاتا ہے جیسا کہ میں نے پہلے بتایا تھا وہ توڑنے اور تجزیہ کرنے سے یا جوڑنے سے چیزیں بناتا ہے لیکن خدا تعالیٰ کی صفت خلق مادہ کی محتاج نہیں اور غیر محدود ہے۔خلق کے بھی مختلف جلوے ہیں۔کچھ حصے کے متعلق شاید آگے بھی ذکر آئے اس