خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 12
خطبات ناصر جلد ہفتم ۱۲ خطبہ جمعہ ۷ /جنوری ۱۹۷۷ء اُن کا احساس تھا اپنی ذمہ داری کو نباہنے کا وقت پر ریویو شائع ہو جائے وہ بھی ظاہر ہوتا ہے اور جو تھوڑا سا وقت ایک نیکی کے کرنے کا ان کو ملا اور جسے وہ پورا ثواب سمجھتے تھے اور اللہ تعالیٰ ثواب دے ہی دیتا ہے ایسے نیت والے آدمیوں کو تو انہوں نے کہا کہ اگر وہ تین گھنٹے وقار عمل میں شامل نہیں ہو سکتے تو چلو ایک گھنٹہ ہی شامل ہو جائیں۔پس ایک ایسا وجود ہم سے جدا ہوا ہے ایک تو دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے اور اُن کی جو اولاد ہے اور دوسرے عزیز واقارب جو وہ پیچھے چھوڑ گئے ہیں اُن پر بھی رحمت نازل کرتا رہے اور اُن کا بھی خاتمہ بالخیر کرے۔ہم سب کا خاتمہ بالخیر کرے۔اور ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسے وجود کثرت سے جماعت میں پیدا ہوتے رہیں اخلاص کے لحاظ سے بھی علم کے لحاظ سے بھی اور ہر وقت فدائیت کے ساتھ خدمت اسلام کا جو جذ بہ ہے اُس لحاظ سے بھی اور ہماری علمی میدان کی جو ضرورتیں ہیں اللہ کرے کہ ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں جوان ضرورتوں کو پورا کرنے والے ہوں۔ملک صاحب مرحوم کی نماز جنازہ عصر کی نماز کے بعد چار بجے بہشتی مقبرہ کے میدان میں پڑھی جائے گی۔دوستوں کو چاہیے کہ احمدیت کے ایسے بزرگ اور فدائی کی نماز جنازہ میں زیادہ سے زیادہ شامل ہوں۔جہاں ہمیں اپنے لئے بھی دعا کا خاص موقع ملتا ہے اور جانے والے بھائی کے لئے بھی دعا کا خاص موقع ملتا ہے۔روزنامه الفضل ربوه ۵ / مارچ ۱۹۷۷ء صفحه ۲ تا ۵ )