خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 243
خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۴۳ خطبہ جمعہ ۲۱ اکتوبر۱۹۷۷ء کیونکہ خدا تعالیٰ کی ذات غیر محدود ہے اور انسان ہر جہت اور ہر پہلو سے حدود میں جکڑا ہوا ہے۔اس کی طاقتیں بھی محدود، اس کی عقل بھی محدود، اس کی فراست بھی محدود اور اس کی زندگی بھی محدود۔وہ اپنی چھوٹی سی زندگی میں خواہ ۷۰-۸۰ سال کی ہو تب بھی خدا تعالیٰ کے متعلق سب کچھ کیسے جان سکتا ہے جو کہ غیر محدود ہے اپنی ذات میں بھی اور جو غیر محدود ہے اپنی صفات میں بھی اور آج میں اسی کے متعلق مضمون شروع کر رہا ہوں۔صفات باری کے متعلق جو دو چار باتیں میں کہوں گا ان میں سے پہلی بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی ذات کی طرح اس کی صفات بھی بے مثل و مانند ہیں یعنی نہ اس کی ذات کی کوئی مثل ہے اور نہ کسی اور وجود میں اس جیسی صفات یا کوئی ایک صفت ہمیں نظر آتی ہے۔اللہ تعالیٰ اپنی صفات میں بھی بے مثل و مانند ہے۔جب ہم اسلامی تعلیم کی روشنی میں اللہ تعالیٰ کی صفات پر غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی دو قسم کی صفات کا ذکر کیا گیا ہے ایک کو تنزیہی صفات کہا گیا ہے اور ان میں خدا تعالیٰ کے بے مثل و مانند ہونے میں کسی کو بھی شبہ نہیں نہ کمزور دماغ والے کو اور نہ اسے جس کے دماغ میں شیطان وسوسہ ڈالے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کی ایسی صفات ہیں جو ان جلووں سے تعلق رکھتی ہیں کہ جہاں مخلوق کا کوئی تعلق اور واسطہ نہیں ہے وہ تنزیہی صفات ہیں وہ خدا ہی کی ہیں اور خدا ہی انہیں بہتر جانتا ہے۔ہمیں اس کے متعلق اشارے مل جاتے ہیں لیکن اس کی کنہ کو انسان نہیں سمجھ سکتا اور حقیقت یہ ہے کہ دوسری قسم کی صفات کی کنہ کو بھی جاننا مشکل ہے۔بہر حال تنزیہی صفات کے بارہ میں کسی شبہ اور شک یا وسو سے کی کوئی گنجائش نہیں رہتی کہ ان میں خدا تعالیٰ بے مثل و مانند ہے۔دوسری قسم کی صفات کو ہم اسلامی تعلیم کی روشنی میں تشبیہی صفات کہتے ہیں۔وہ صفات اس وجہ سے تشبیبی ہیں کہ انسان کے اندر بھی ان صفات سے ملتی جلتی صفات پائی جاتی ہیں اس لئے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے اپنا عبد بننے کے لئے پیدا کیا اور اس کو یہ قوت دی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا رنگ اپنی صفات پر چڑھائے اور اسے یہ ہدایت کی گئی کہ تَخَلَقُوا بِأَخْلَاقِ اللهِ خدا تعالیٰ کی صفات کے مطابق اپنی زندگی کے دن گزارو۔اس واسطے ہمیں نظر آتا ہے کہ خدا تعالیٰ بینا ہے، دیکھتا ہے،