خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 242 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 242

خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۴۲ خطبہ جمعہ ۲۱ /اکتوبر ۱۹۷۷ء خاطر جو مہمان خانہ تیار کروا رہی ہے اس کا خرچ پہلے اندازے سے بڑھ گیا ہے کیونکہ بہت سی چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے اس لئے وہ اس مہمان خانہ کو مکمل کرنے میں کچھ تنگی محسوس کر رہی ہیں۔پس میں احمدی مستورات سے کہوں گا کہ یہ کام انہوں نے کرنا ہے اگر یہ جلسے سے پہلے اور جب۔ہو جائے تو باہر سے آنے والی بہنوں کے لئے بہت سی سہولت کا سامان پیدا ہو جائے گا۔اللہ تعالیٰ نے احمدی کے دل میں بڑی وسعت پیدا کی ہے۔ہمارا خیال تھا کہ چونکہ بہت بڑا مسقف حصہ تعلیمی اداروں کے نہ ملنے کی وجہ سے جلسہ سالانہ کو میسر نہیں ہوگا اس لئے تنگی پیدا ہوگی ب پہلے سال یہ حالات پیدا ہوئے تو میں نے ربوہ والوں سے کہا کہ تم بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مہدی کی طرف منسوب ہونے والے ہو اور جو باہر سے مہمان آرہے ہیں وہ بھی مہدی اور مسیح علیہ السلام کے مہمان ہیں ان کو اپنے سینہ سے لگاؤ ، اپنے گھروں میں ان کو جگہ دو، ان کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔چنانچہ بہت بھاری اکثریت نے اللہ تعالیٰ سے یہ توفیق پائی کہ وہ اسی کی رضا کے لئے ان مہمانوں کو اپنے گھروں میں ٹھہرائیں اور ہمیں کوئی خاص دقت محسوس نہیں ہوئی لیکن جیسا کہ دوست جانتے ہیں ہر سال مہمانوں کی تعداد میں جلسہ سالانہ کی حاضری میں اضافہ ہی ہوتا چلا جاتا ہے اس لئے ہم امید رکھتے ہیں کہ یہ جلسہ جو آ رہا ہے اس میں شامل ہونے والوں کی تعداد گزشتہ سال سے زیادہ ہوگی اور جگہ کی زیادہ ضرورت ہوگی۔جتنی جگہ بنائی جاسکتی ہے بنادیں اور پھر جتنے مہمان اپنے گھروں میں سمائے جا سکتے ہیں سائیں۔خدا تعالیٰ آپ کو بھی کوفت اور خفت سے محفوظ رکھے اور آنے والوں کو بھی تکلیف سے بچائے اور آپ ہر دو کے لئے یعنی یہاں کے رہنے والوں کے لئے بھی اور باہر سے آنے والوں کے لئے بھی اپنی رحمتوں اور برکتوں کے سامان پیدا کرے۔میں نے جو سلسلہ مضمون شروع کیا تھا اب میں اس کے ایک حصہ کی طرف آتا ہوں۔دو خطبے میں نے دیئے ہیں پہلا تو اصولی تھا بہت سی باتیں اسلامی تعلیم کے متعلق میں نے بتائی تھیں اور پھر خدا تعالیٰ کی ذات کے متعلق اسلام نے ہمیں جو تعلیم دی ہے وہ مختصراً بیان کی تھی۔جہاں تک خدا تعالیٰ کی ذات اور صفات کا تعلق ہے انسان مختصر ہی کچھ کہ سکتا، کچھ سن سکتا اور کچھ مجھ سکتا ہے