خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 238 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 238

خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۳۸ خطبہ جمعہ ۱۴ را کتوبر۱۹۷۷ء ہے اور اس میں بھی مخاطب کی بھلائی ہی مقصود ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری جگہ فرمایا:۔فَمَنْ عَفَا وَ أَصْلَحَ (الشوری: ۴۱) کہ اگر اصلاح کی توقع ہو تو معاف کر دینا بہتر ہے لیکن اگر تم سمجھو کہ بڑا ڈھیٹ آدمی ہے جب تک کوئی تھوڑی سی سختی نہ کی جائے گی اس کو سمجھ نہیں آئے گی اور اس کا دماغ درست نہیں ہوگا اور وہ ظلم پر قائم رہے گا تو اس کی بھلائی کے لئے تم سختی کرو مگر اپنے غصے کے اظہار کے لئے نہیں بلکہ اس کی اصلاح کی خاطر۔پھر ایک اور جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔وَ كَذَبَ بِهِ قَوْمُ (الانعام : ۶۷) ایک رنگ میں یہ بیان ہمارے جذبات کی تاروں کو چھیڑتا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتنی بڑی ہدایت لے کر آئے لیکن قوم نے اس پیغام کی تکذیب کر دی اور اسے جھوٹا قرار دے دیا حالانکہ هُوَ الْحَقُّ یہ تو ایک صداقت ہے یہ تو ایک سچائی ہے لیکن فرمایا:۔قُلْ تَسْتُ عَلَيْكُمْ ہوگیل اے رسول ! تم ان سے کہہ دو۔میں تمہارا ذمہ دار نہیں ہوں۔یہ فیصلہ بہر حال تم نے کرنا ہے کہ آیا تم اپنی مرضی سے ایمان کا اظہار کرو گے اور ہدایت کی راہوں کو اختیار کرو گے اور خدا تعالیٰ کی بتائی ہوئی ہدایت کے ذریعہ خدا تعالیٰ کے قرب کی تلاش کرو گے یا تم کفر کا اعلان کرو گے اور خدا تعالیٰ سے دوری کی راہوں کو اختیار کرو گے۔میں تمہارا ذمہ دار نہیں ہوں۔خدا تعالیٰ نے میرے اوپر یہ ذمہ داری نہیں ڈالی کہ میں تم پر جبر کر کے زبردستی کے طور پر کسی مادی طاقت کے ذریعہ تمہارے اس اختیار کو چھین کر جو خدا تعالیٰ نے تمہیں دیا ہے تمہیں ہدایت کی راہوں کی طرف لاؤں۔قرآن کریم سے تو یہ مسئلہ صاف ہے کوئی شخص کسی کو نہ تو ز بر دستی مومن بنا سکتا ہے اور نہ کسی کو زبردستی کا فر بنا سکتا ہے اس لئے کہ ہدایت کے راستوں پر جس آدمی کی جدو جہد عنداللہ مقبول ہوگئی وہی مومن ہوتا ہے۔پس جہاں تک ایمانیات کا تعلق ہے قبول کرنا یا نہ کر نا بندے کا کام نہیں یہ خدا کا کام ہے۔ایک شخص کہتا ہے میں خدا کا ایک عاجز بندہ ہوں اور بڑا ہی کمزور انسان ہوں۔میں خدا تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت پر ایمان لاتا ہوں۔میں مومن ہوں اور اپنی طرف سے اپنی بساط