خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 231 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 231

خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۳۱ خطبہ جمعہ ۱۴ را کتوبر۱۹۷۷ء مانا۔جس چیز کے متعلق یہ سوال پیدا ہی نہیں ہوتا کہ حکم عدولی بھی کر سکتی ہے یا اس نے اپنی مرضی سے حکم ماننا ہے تو اس کے لئے ثواب کے میدانوں میں کوئی ترقیات نہیں۔خدا تعالیٰ نے صرف انسان پر یہ فضل کیا ہے کہ وہ اپنی خداداد طاقتوں سے کام لے کر روحانی ترقیات کر سکتا ہے اور ابدی جنتوں کا وارث بن سکتا ہے اور دراصل یہی وہ نکتہ ہے جس پر آج میں زور دینا چاہتا ہوں۔اللہ تعالیٰ کا انسان پر یہ بڑا احسان ہے کہ اس نے اپنی رحمت سے انسان پر فضل اور رحم کرتے ہوئے اسے قرب الہی کی راہیں دکھا ئیں اور وصالِ الہی کے دروازے اس پر کھولے اور بے شمار نعمتیں اس پر نازل کیں حالانکہ انسان ہے کیا۔بس ایک ذرہ ناچیز ہے۔انسان جب خدا تعالیٰ کے ان احسانوں پر غور کرتا ہے تو وہ حیران ہو جاتا ہے کہ اس کی ہستی ہی کیا ہے اور وہ ہے کیا چیز۔لیکن خدا تعالیٰ کتنا پیار کرنے والا ہے۔اس نے انسان کو غیر محدود ترقیات سے نوازا۔اسلام کے سارے احکام جو او امر اور نواہی پر مشتمل ہیں، انسان کے لئے ایک نعمت غیر مترقبہ ہیں۔یعنی نواہی ہیں تو منزل سے بچنے کے لئے اور اوامر ہیں تو ترقیات کرنے کے لئے دیئے گئے ہیں۔ہماری یہ دنیا عمل کی دنیا ہے اور اس جہان کی زندگی کے ساتھ امتحان لگا ہوا ہے اس میں نیکی اور بدی انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہے لیکن بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ شاید اگلے جہان میں عمل کوئی نہیں ہوگا ، ترقیات کوئی نہیں ہوں گی قرب کے میدانوں میں، بس یہاں سے جو کچھ حاصل کیا اس کے بدلے میں انسان کو ایک ایسی جنت مل جائے گی جس کے اندر کوئی تغیر اور ترقی نہیں ، ایسا نہیں ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ ہر صبح کو خدا تعالیٰ ایسے سامان پیدا کرے گا ( پتہ نہیں وہاں کا دن کیسے ہوگا اور رات کیسی ہمیں تو سمجھانے کے لئے یہ بتایا گیا ہے) کہ ہر صبح جنتیوں کو ایک ترقی یافتہ منزل کی طرف نشاندہی کی جائے گی اور وہ وہاں پہنچ جائیں گے۔پس گو وہاں بھی عمل ہے لیکن وہ عمل نہیں جس کے ساتھ ابتلا اور امتحان لگا ہوا ہوتا ہے۔وہاں جو عمل ہے وہ خدا تعالیٰ کی معرفت کے نتیجہ میں صحیح رنگ اور صحیح معنے میں خدا تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہنا ہے۔اس دنیا میں بھی تو سب سے اعلیٰ اور سب سے احسن اور سب سے اچھا عمل ذکر الہی میں مشغول رہنا ہی ہے باقی ساری چیز میں اسی کے نیچے آجاتی ہیں۔اس جہان کی جو نیکیاں ہیں وہ بھی دراصل ذکر الہی ہی کے زمرہ میں آتی