خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 230 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 230

خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۳۰ خطبہ جمعہ ۱۴ /اکتوبر ۱۹۷۷ء کا اختیار اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اس کائنات میں اپنی صلاحیتوں کی صحیح نشو ونما کر کے خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرے۔قرب الہی کے حصول کے لئے غیر محدود ترقیات کے راستوں پر چلے اور تَخَلَّقُوا بِأَخْلَاقِ الله کے نتیجہ میں ہر انسان اپنے دائرہ استعداد میں خدا تعالیٰ سے وصال حاصل کرے کیونکہ قرب الہی کا حصول ہی انسانی زندگی کا اصل مقصد ہے۔قرآن کریم نے بیسیوں جگہ مختلف پیرایوں میں ان بنیادی حقیقتوں پر روشنی ڈالی ہے۔اگر یہ بات درست ہے اور جیسا کہ قرآن کریم نے ہمیں بتایا ہے کہ یہ درست ہے تو پھر غیر اللہ کی طرف سے انسان پر جبر روا رکھنا عقلاً نا جائز ہے۔انسان پر جبر کر نا خدا تعالیٰ کو پسند نہیں ، اسلام نے اس کی اجازت نہیں دی۔جب خدائے علیم وخبیر نے انسان کو یہ اختیار دیا ہے کہ اعمال کا بجالا نا اس کی مرضی پر منحصر ہے چاہے تو وہ اپنی مرضی سے اپنے داعی الی الخیر کی آواز سنے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں زندگی گزارے اور چاہے تو وہ اپنے داعی الی الشر کی آواز پر کان دھرے اور ا پنی فطرت کے تقاضوں کے خلاف خدا تعالیٰ سے دوری اور مہجوری کی راہوں کو اختیار کرے۔جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ اختیار دیا ہے تو اللہ کے علاوہ دنیا میں اور کون سی طاقت ہے جو انسان سے یہ اختیار چھینے کا حق رکھتی ہو۔ظاہر ہے کوئی طاقت حق نہیں رکھتی۔ہر انسان نے خود اپنے متعلق یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ قرب الہی کی راہوں کو اختیار کرے گا یا شیطان کے ورغلانے میں آکر صراط مستقیم سے بھٹک جائے گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی انسان اللہ تعالیٰ کا محبوب نہیں ہے لیکن خدا تعالیٰ نے آپ کو بھی یہ اختیار نہیں دیا کہ وہ اس معاملے میں یعنی انسان کے اس اختیار میں دخل دیں کیونکہ خدا تعالیٰ نے انسان کو جو اختیار عطا کیا ہے اسے کوئی نہیں چھین سکتا۔انسان کو یہ اختیار اس لئے دیا گیا ہے کہ اس کا ئنات میں صرف انسان ہی ایک ایسی ہستی ہے جس کے لئے غیر محدود ترقیات کے دروازے کھولے گئے ہیں اور جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں انسان کے علاوہ ہر شے کے لئے نہ چھوٹی اور نہ بڑی کسی قسم کی اخلاقی اور روحانی ترقی کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ اس نے تو حکم ماننا ہے ترقی کرنے یا نہ کرنے کا سوال تب پیدا ہوتا ہے کہ حکم مانا ہے یا نہیں