خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 219 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 219

خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۱۹ خطبہ جمعہ ۷ اکتوبر۱۹۷۷ء نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں کسی وقت تعطل حواس پیدا ہو جائے۔اللہ تعالیٰ ازلی و ابدی ہے وہ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ہے۔وہ اپنی ذات سے زندہ ہے۔وہ کامل حیات کا مالک ہے اور اپنی ذات سے قائم ہے۔اس کے قیام میں بھی کمال پایا جاتا ہے۔خدا تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور ہستی نہیں جو اپنی ذات میں زندہ ہو اور اپنی ذات سے قائم رہ سکتی ہو۔اس لئے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ خدا کی ذات بزرگ و مقدس ہے۔ضعف اور ناتوانی اس کی طرف منسوب ہی نہیں کی جاسکتی۔اس کی ساری صفات اپنے کمال پر پہنچی ہوئی ہیں۔اس کی ذات اور صفات میں تھوڑا سا ضعف اور نقصان بھی نہیں پایا جا تا۔اسی طرح اسلام نے ہمیں یہ بھی بتایا ہے کہ خدا تعالیٰ کی ذات غیر محدود ہے۔اس مضمون کا یہ حصہ ذرا دقیق ہے آپ اسے غور سے سنیں۔خدا آپ کو سمجھنے کی توفیق دے۔) کائنات محدود ہے یعنی خدا تعالیٰ نے جو کچھ پیدا کیا ہے وہ تو محدود ہے۔محض انفرادی حیثیت ہی میں نہیں بلکہ بحیثیت مجموعی یہ کائنات محدود ہے لیکن اس کا ئنات کا صانع یعنی خدا تعالی غیر محدود ہے۔اس لئے جہاں اس کی صفات کے جلوے کائنات میں ظاہر ہوتے ہیں، قرآن کریم کی اصطلاح میں انہیں تشبیہی صفات کہا جاتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی جو تنزیہی صفات ہیں وہ وراء الوراء مقام رکھتی ہیں۔ہم عاجز بندے اس کو سمجھ نہیں سکتے وہ ہماری عقل سے بالا ہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے عرش کو مخلوق کہنا اور اس بحث میں پڑنا غلط ہے۔عرش اس وراء الوراء مقام کا نام ہے جس میں خدا تعالیٰ کی تنزیہی صفات جلوہ گر ہوتی ہیں لیکن جہاں تک کا ئنات کا تعلق ہے اس میں انسان کوشش کرتا ہے اور سائنس اور تحقیق اور خدا داد علم کے ذریعہ ترقی کرتا ہے۔انسان کی یہ ترقی خدا تعالیٰ کی تشبیہی صفات کے پر تو کے نتیجہ میں ہوتی ہے۔کائنات سے پرے خدا تعالیٰ کا جو بھی مقام ہے وہ انسانی عقل سے پرے ہے ہم اس کا تصور نہیں کر سکتے ،مگر جہاں تک کائنات کا سوال ہے اس میں اللهُ نُورُ السّمواتِ وَالْأَرْضِ ( النور : ۳۶) آسمان اور زمین میں کائنات کے ہر حصے میں خدا تعالیٰ ہی کا نور جلوہ گر ہے اور ہر مخلوق میں ہمیں خدا ہی کے چہرے کی چمک نظر آتی ہے۔اس کے بغیر سب تاریکی اور ظلمت ہے۔ہر چیز نور خدا تعالیٰ کی ذات سے ہی لیتی ہے۔