خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 187 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 187

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۱۸۷ خطبہ جمعہ ۹ رستمبر ۱۹۷۷ء خرچ کرنا ہے۔اگر وہ خدا کا مومن بندہ ہے تو حسنات دنیا بھی خدا تعالیٰ نے اسی کے لئے پیدا کی ہیں۔اسی طرح ہر دوسری عبادت میں نسبتاً تھوڑی یا بہت کمی ہو جاتی ہے۔روزہ کے لحاظ سے تو واضح ہے کہ پوری کمی ہو جاتی ہے کیونکہ اس مہینے کے علاوہ باقی گیارہ مہینوں میں کوئی فرض روزہ نہیں ہے اور کثرت سے نفلی روزے رکھنے کی عام طور پر لوگ کم ہی توفیق پاتے ہیں۔بہر حال سارا سال روزے نہیں رکھ سکتے ، یہ ناممکنات میں سے ہے لیکن خدا تعالیٰ کا ذکر آپ ہر وقت کر سکتے ہیں۔یہ عادت ڈالنے والی بات ہے۔اگر آج آپ عہد کریں تو سارا سال آپ خدا کے ذکر میں مشغول رہیں گے۔جمعہ پر مسجد میں آنے کے لئے آپ اپنے گھروں سے نکلتے ہیں اگر آپ سارا راستہ خدا تعالیٰ کا ذکر کرتے رہے تو نہ آپ کا کوئی وقت خرچ ہوا نہ آپ کا کوئی پیسہ خرچ ہوا نہ آپ کو خدا تعالیٰ کی راہ میں کوئی جسمانی تکلیف اٹھانی پڑی،صرف اپنی روح اور اپنی توجہ کو آپ نے خدا تعالیٰ کے لئے صرف کیا۔جب آپ یہاں سے واپس جائیں گے تو خدا تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہیں۔سُبْحَانَ اللهِ وَ بِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيْمِ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ الِ مُحَمَّدٍ پڑھتے رہیں نیز ذکر کے متعلق عربی کے اور بہت سے فقرے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم کی یہ تعلیم ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات کو سامنے رکھ کر اس کا ذکر کیا کرو۔قرآن کریم میں بھی کثرت کے ساتھ خدا تعالیٰ کی صفات توحید کے ساتھ شامل کر کے بیان کی گئی ہیں۔لَا إِلَهَ إِلا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (ال عمران : ۷) اور بہت سی آیات میں ان کا ذکر ہے۔کبھی صفت پہلے آجاتی ہے اور کبھی بعد میں آتی ہے۔لَا إِلَهَ إِلا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ (البقرة : ۲۵۶) صرف خدائے واحد و یگانہ ہے جس کی یہ صفت ہے وہ ربّ ہے، وہ حتی ہے، وہ قیوم ہے۔ان صفات کے معانی میں تو میں اس وقت نہیں جاؤں گا یہ بڑالمسبا مضمون ہے اور بڑا حسین اور لطیف مضمون ہے اس پر غور کر کے بڑا لطف آتا ہے۔میں آپ کو یہ بتا رہا ہوں کہ سارا سال آپ خدا تعالیٰ کا اتنا ہی ذکر کر سکتے ہیں جتنا کہ رمضان میں کر سکتے ہیں کیونکہ اس پر وقت خرچ نہیں ہوتا ، اس پر توجہ اور عادت خرچ ہوتی ہے یعنی عادت ڈالنی پڑتی ہے اور توجہ خرچ کرنی پڑتی ہے۔