خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 178 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 178

خطبات ناصر جلد ہفتم خطبہ جمعہ ۲ ستمبر ۱۹۷۷ء سے ہمکلام ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ تم بلاؤں سے اور خوفناک دشمنوں سے مت ڈرو اور نہ گزشتہ مصیبتوں سے غمگین ہو۔میں تمہارے ساتھ ہوں اور میں اسی دنیا میں تمہیں بہشت دیتا ہوں جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا تھا۔پس تم اس سے خوش ہو۔اب واضح ہو کہ یہ باتیں بغیر شہادت کے نہیں اور یہ ایسے وعدے نہیں کہ جو پورے نہیں ہوئے بلکہ ہزاروں اہلِ دل مذہب اسلام میں اس روحانی بہشت کا مزہ چکھ چکے ہیں۔درحقیقت اسلام وہ مذہب ہے جس کے سچے پیروؤں کو خدا تعالیٰ نے تمام گزشتہ راستبازوں کا وارث ٹھہرایا ہے اور ان کی متفرق نعمتیں اس اُمتِ مرحومہ کو عطا کر دی ہیں اور اس نے اس دعا کو قبول کر لیا ہے جو قرآن شریف میں آپ سکھلا ئی تھی اور وہ یہ ہے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ - صِرَاطَ الَّذِينَ انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ (الفاتحة: ۷،۶) ہمیں وہ راہ دکھلا جو ان راستبازوں کی راہ ہے جن پر تو نے ہر ایک انعام اکرام کیا ہے یعنی جنہوں نے تجھ سے ہر ایک قسم کی برکتیں پائی ہیں اور تیرے مکالمہ مخاطبہ سے مشرف ہوئے ہیں اور تجھ سے دعاؤں کی قبولیتیں حاصل کی ہیں اور تیری نصرت اور مدد اور راہ نمائی ان کے شامل حال ہوئی ہے اور ان لوگوں کی راہوں سے ہمیں بچا جن پر تیرا غضب ہے اور جو تیری راہ کو چھوڑ کر اور اور راہوں کی طرف چلے گئے ہیں۔یہ وہ دعا ہے جو نماز میں پانچ وقت پڑھی جاتی ہے اور یہ بتلا رہی ہے کہ اندھا ہونے کی حالت میں دنیا کی زندگی بھی ایک جہنم ہے اور پھر مرنا بھی ایک جہنم ہے اور درحقیقت خدا کا سچا تابع اور واقعی نجات پانے والا وہی ہوسکتا ہے جو خدا کو پہچان لے اور اس کی ہستی پر کامل ایمان لے آوے اور وہی ہے جو گناہ کو چھوڑ سکتا ہے اور خدا کی محبت میں محو ہو سکتا ہے۔پس اسلام دنیا میں اس لئے آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہنمائی حاصل کرنے کے لئے انسان پورے طور پر اسلام کے احکام کی پابندی کرے اور کوشش کرے کہ وہ خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرے لیکن جیسا کہ میں نے پہلے بھی ایک فقرہ میں یہ کہا تھا کہ انسان اپنی طاقت سے یہ نہیں کر سکتا اس کے لئے دعا کی ضرورت ہے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جذب کرتی ہے اور اس کے لئے اس نور 66