خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 172 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 172

خطبات ناصر جلد ہفتم ۱۷۲ خطبہ جمعہ ۲ ستمبر ۱۹۷۷ء تھا، اسلام کی خاطر قربانیاں دینے کا سوال تھا اس لئے انہوں نے خدا تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت کے مطابق اپنے جسموں کی جو تربیت کی تھی اور جسمانی طاقتوں کی نشوونما کی تھی اس کا اس طرح مظاہرہ کیا کہ انسانی عقل دنگ رہ گئی۔مسلمان سپاہی کو نو گھنٹے لگا تار اس فوج کے ساتھ لڑنا پڑا جو ہر ڈیڑھ گھنٹے کے بعد ایک تازہ دم سپاہی سامنے لے آتی تھی اور اس کے باوجود مسلمانوں کو کوئی کوفت نہ ہوتی تھی پھر دو دن کے بعد بعض دفعہ تین دن کے بعد دوسری لڑائی ہوتی تھی اور مسلمان سپاہی وہی ہوتے تھے جو پہلے دن سے لڑ رہے ہوتے تھے۔ان میں بھی کچھ زخمی اور کچھ شہید ہو جاتے تھے۔اگر چہ زخمی ہوتے تھے، تھکے ہوتے تھے لیکن دشمن کے سامنے سینہ سپر رہتے تھے حالانکہ ان کے مقابلہ میں کسری کی لاکھ کی لاکھ فوج پیچھے ہٹ جاتی تھی اور پھر ایک نئے کور کمانڈر کی ماتحتی میں ایک تازہ دم فوج سامنے آجاتی تھی اور کچھ دنوں کے بعد پھر اسی قسم کی لڑائی ہوتی تھی۔پس عجیب شان ہے صحابہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی۔انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تربیت پائی اور اپنی جسمانی طاقتوں کو خدا اور خدا کے دین کی ضرورتوں کے لئے نشو ونما دے کر عظیم الشان قربانیوں کا مظاہرہ کیا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کو ذہنی طاقتیں عطا کی ہیں۔اخلاقی طاقتیں اور صلاحیتیں اور استعداد میں عطا کی ہیں اور روحانی قوتیں، صلاحیتیں اور استعداد میں عطا کی ہیں۔بنیادی طور پر یہ چار مختلف قسم کی صلاحیتیں اور استعدادیں ہیں جو خدا تعالیٰ نے انسان کو دی ہیں۔ہر طاقت اپنی نشو ونما کے ہر مرحلہ میں خدا سے کچھ مانگتی ہے مثلاً جسمانی طاقت کو لے لیتے ہیں۔ایک بچہ ہے جس کا پیدائش کے بعد خدا سے پہلا مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ ماں اسے دودھ دے اس کے لئے ماں کا دودھ پینا ضروری ہوتا ہے۔ویسے دودھ تو دودھ پینے والے بڑے ہو کر بھی پیتے ہیں، اونٹ کا بھی ، بھینس کا بھی اور گائے کا بھی اور بکری کا بھی اور بھیڑ کا بھی اور بعض جگہ ضرورت پڑے تو گھوڑے کا دودھ بھی پینے والے پی لیتے ہیں گو کم پیا جاتا ہے لیکن دنیا گھوڑے کا دودھ بھی پیتی ہے لیکن بچے کی پیدائش کے بعد بچے کا اپنے خدا سے یہ سوال ہوتا ہے اور اس کی یہ حاجت ہوتی ہے کہ اس کی پیدائش کے بعد اس کی صحیح نشو و نماماں کے دودھ سے ہو سکتی ہے بھینس کے دودھ سے