خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 166 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 166

خطبات ناصر جلد ہفتم خطبہ جمعہ ۲۶ راگست ۱۹۷۷ء މ ވ ވ کرتا ہے تو گویا اِيَّاكَ نَعْبُدُ پر وہ ایک خاص عمل کرتا ہے اور وہ عمل اعلیٰ درجہ کی عبادت ہے إِيَّاكَ نَعْبُدُ سے آگے اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ہے خواہ یہ اس کے منہ سے نکلے یا نہ نکلے لیکن اللہ تعالیٰ جو مبدء الفیوض اور صدق اور راستی کا چشمہ ہے اس کو ضرور مدد دے گا اور صداقت کے اعلیٰ اصول اور حقائق اس پر کھول دے گا جیسے یہ قاعدہ کی بات ہے کہ کوئی تاجر جو اچھے اصولوں پر چلتا ہے اور راستبازی اور دیانتداری کو ہاتھ سے نہیں دیتا اگر وہ ایک پیسہ سے تجارت کرے اللہ تعالیٰ اسے ایک پیسہ کے لاکھوں لاکھ روپیہ دیتا ہے۔اسی طرح پر جب عام طور پر انسان راستی اور راست بازی سے محبت کرتا ہے اور صدق کو اپنا شعار بنالیتا ہے تو وہی راستی اس عظیم الشان صدق کو کھینچ لاتی ہے جو خدا تعالیٰ کو دکھا دیتی ہے اور وہ صدق مجسم قرآن کریم ہے اور وہ صدق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے ( کیونکہ آپ نے اپنی زندگی میں قرآن کریم کی ہدایت پر سچا اور پورا عمل کر کے ہمارے لئے ایک کامل اُسوہ پیش کیا ایسا ہی خدا تعالیٰ کے مامور ومرسل حق اور صدق ہوتے ہیں پس وہ اس صدق تک پہنچ جاتے ہیں تب ان کی آنکھ کھلتی ہے اور ایک خاص بصیرت ملتی ہے جس سے معارف قرآنی کھلنے لگتے ہیں۔میں اس بات کے ماننے کے واسطے کبھی طیار نہیں ہوں کہ وہ شخص جو صدق سے محبت نہیں رکھتا اور راست بازی کو اپنا شعار نہیں بنا تا وہ قرآن کریم کے معارف کو سمجھ بھی سکے اس واسطے کہ اس کے قلب کو مناسبت ہی نہیں یہ تو صدق کا چشمہ ہے اس سے وہی پی سکتا ہے جس کو صدق سے محبت ہو۔پھر آپ فرماتے ہیں:۔صدیق وہ ہوتے ہیں جو صدق سے پیار کرتے ہیں سب سے بڑا صدق لا الهَ إلا الله ہے اور پھر دوسرا صدق مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ ہے وہ صدق کی تمام راہوں سے پیار کرتے ہیں اور صدق ہی چاہتے ہیں۔۔۔۔صدیق عملی طور پر صدق سے پیار کرتا اور کذب