خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 156 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 156

خطبات ناصر جلد ہفتم خطبہ جمعہ ۱۹ اگست ۱۹۷۷ء کی کوئی تمیز نہیں رہتی ان میں کوئی امتیاز باقی نہیں رہتا۔اللہ تعالیٰ نے اس مہینے کی عظمت قرآن کریم میں بیان کی ہے۔اس ماہ کی ایک عظمت یہ بھی ہے کہ احادیث میں آتا ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام ماہ رمضان میں جتنا قرآن کریم اس وقت تک نازل ہو چکا ہوتا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اس کا دور کیا کرتے تھے۔حضرت جبرائیل علیہ السلام وحی کے لانے والے فرشتہ ہیں۔وہی قرآن کریم کی وحی کو لے کر آتے تھے، آیت یا اس کے ٹکڑوں کی شکل میں جیسا کہ وحی نازل ہوتی تھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ رمضان کے مہینہ میں وہ میرے ساتھ قرآن کریم کا دور بھی کرتے ہیں ( ہماری جماعت میں خصوصاً مرکز میں قرآن کریم کا درس ہوتا ہے اس میں دوستوں کو شامل ہونا چاہیے )۔قرآن کریم کی اپنی ایک عظمت ہے اور بڑی ہی عظمت ہے۔اس آیت میں جو میں نے ابھی تلاوت کی ہے یہ بتایا گیا ہے کہ تین باتیں قرآن کریم کی عظمت کو ثابت کرنے والی ہیں۔ایک تو یہ کہ ھدی للناس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آیت کے اس ٹکڑا کی بہت سی تفسیریں کی ہیں۔ایک تفسیر آپ نے یہ کی ہے کہ ھدی للناس کا مطلب یہ ہے کہ جو ہدایت لوگ بھول چکے تھے اسے دوبارہ پیش کرنے والا۔ہدایت تو حضرت آدم علیہ السلام کے وقت سے آنی شروع ہوئی اور بہت سی شریعتیں نازل ہوئیں لیکن وہ امتیں جن کی طرف مختلف اوقات میں شریعتیں نازل ہوئیں۔ایک وقت گزرنے کے بعد ان کی زندگی میں روحانی طور پر دو تبدیلیاں آئیں۔ایک تو یہ کہ روحانی طور پر ارتقاء کے کچھ مدارج وہ طے کر چکے تھے اور روحانی طور پر زیادہ بوجھ کو اُٹھانے کے قابل ہو چکے تھے اور دوسری تبدیلی یہ آئی کہ جو شریعت ان پر نازل ہوئی تھی اس کو بھی بہت حد تک وہ بھول گئے اور بہت سی بدعات اس میں شامل ہو گئیں۔پس قرآن کریم نے وہ بنیادی صداقتیں جو پہلی شریعتوں کے اندر پائی جاتی تھیں لیکن پہلی شریعتوں کے مخاطب انہیں بھول چکے تھے وہ ہدایتیں پھر لوگوں کو سکھائیں اور انسان کو ان سے متعارف کرایا۔یه هدی للناس کے ایک معنی ہیں۔وَبَيِّنَةٍ مِّنَ الْهُدی دوسری بات جو قرآن کریم کی عظمت کو ثابت کرتی ہے یہ ہے کہ پہلی