خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 122
خطبات ناصر جلد ہفتم ۱۲۲ خطبہ جمعہ یکم جولائی ۱۹۷۷ء باتیں قرآن کریم کی پیشگوئیوں کے مطابق ظہور میں آئیں گی اور پیشگوئیاں پوری ہوں گی، جب نئے مسائل پیدا ہوں گے قرآن کریم کی نئی تفسیر خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو سکھائے گا، اپنے مقربین اور اپنے محبوب بندوں کو اور پھر وہ ان مسائل کو حل کریں گے۔پس قرآن کریم میں ایت محکمت کے علاوہ ایت متشبهت کا پایا جانا اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن کریم ایک کامل اور مکمل کتاب ہے۔خدا کہتا ہے کہ یہ ایسی مکمل اور کامل کتا ہے جس میں متشبھت بھی پائی جاتی ہیں اس معنی میں کہ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيْلَةَ إِلَّا اللهُ وَالرُّسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ أَمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رہنا۔اس معنی میں جو متشابہات تھیں، جو قرآن کریم کی عظمت بیان کرنے والی اور جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفعتوں کی طرف اشارہ کرنے والی تھیں منافق انہی متشابہات کی غلط تاویل سے فائدہ اٹھاتا ہے اور جو دنیا کی روشنی کے ذرائع تھے منافق ان کے ذریعے خود اپنے آپ کو بھی اندھیروں میں لے جاتا ہے اور دوسروں کو بھی اندھیروں کی طرف کھینچنے کی کوشش کرتا ہے اور جو مومن ہے وہ ایسا نہیں کرتا لیکن قرآن کریم نے متشبهت سے پہلے محکمت کہا ہے کیونکہ پہلے تو اس کی عظمت ہے یعنی ایک کامل کتاب ہونا اور اس کا مدلل ہونا اور ابدی صداقتوں پر اس کا مشتمل ہونا۔پس دوسری بات یہ ہے کہ قرآن عظیم میں ایت محکمت پائی جاتی ہیں جن میں کوئی استعارہ نہیں اور جو کسی تاویل کی محتاج نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ مُحْكَمت کے معنی ہیں کہ جن میں کوئی استعارہ نہیں پایا جا تا اور جو کسی تاویل کی محتاج نہیں ہیں۔میں نے کہا تھا کہ اس کے اندر ابدی صداقتیں ہیں اور بینات ہیں۔بَيِّنت ، مُحْكَمت ہیں۔ایک ظاہر چیز ہے جس میں کوئی چھپی ہوئی بات نہیں۔قرآن کریم نے کہا ہے کہ میں ایک ایسی کتاب ہوں جو بالکل مبین “ ہوں، ظاہر ہوں اور کوئی چیز مجھ میں چھپی ہوئی نہیں ہے، وہ ان آیات دو ،، محکمات کے متعلق ہی کہا گیا ہے۔یا وہ تفاسیر قرآنی جوان متشابہات سے تعلق رکھتی ہیں جن کا تعلق ماضی سے تھا جس وقت وہ واقع ہو گیا تو وہ مبین “ کے اندر شامل ہو گئیں۔ددو ،، تیسری بات ہمیں یہ پتنگتی ہے کہ قرآن عظیم میں ایت متشبھت میں بھی ہیں جو تاویل کی محتاج ہیں۔ان متشبهت کی بہت سی باتیں بعض استعارات کے پردہ میں محجوب ہیں اور اپنے