خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 121 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 121

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۱۲۱ خطبہ جمعہ یکم جولائی ۱۹۷۷ ء خدا تعالیٰ کے جلوے بے شمار ہیں اور یہ اسی کا کلام ہے اس کے اندر بھی اس کے بے شمار جلوے چھپے ہوئے ہیں اور بے شمار اسرار روحانی اس کے اندر پائے جاتے ہیں جو اپنے اپنے وقت پر ظاہر ہوتے ہیں۔اسی طرح پیشگوئیاں ہیں اگر قرآن کریم ایک کامل کتاب نہ ہوتی اور اس کا تعلق قیامت تک پیدا ہونے والے انسان سے نہ ہوتا تو اس میں ایسی پیشنگوئیاں بھی نہ ہوتیں جن کا تعلق قیامت تک کے انسان سے ہے اور جن کا تعلق بعد میں آنے والے زمانوں سے ہے اور جیسا کہ قرآن کریم نے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات نے ، خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت نے ہمیں بتایا ہے ساری ہی پیشنگوئیاں اپنے اندر اخفاء کا کچھ پہلو رکھتی ہیں۔متشابہات کے بھی یہی معنی ہیں اور اس زمانہ کے حالات، چودھویں صدی کے حالات جو پہلی صدیوں سے مختلف ہیں اس زمانہ کے لئے قرآن کریم کی تفسیر ایسی ہے جس کا تعلق اس زمانہ سے ہے لیکن یہ تفسیر ابدی صداقتوں کی روشنی میں ہوگی اور آیات محکمات سے باہر نہیں جاسکتی بلکہ وہ Determine کرتی ہیں۔وہ معین کرتی ہیں که کونسی تاویل یا تفسیر کسی آیت کی درست ہے اور کونسی نہیں۔غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ ایک کامل کتاب ہے جو نوع انسانی کو دی گئی ہے اور ہمیشہ کے لئے ان کی راہنمائی کرے گی۔کبھی ایسا نہیں ہوگا کہ انھیں قرآن کے علاوہ کسی اور ہدایت اور رہنمائی کی ضرورت پیش آئے۔قرآن کریم نے آئندہ کی خبریں دی ہیں اور ہر صدی کے متعلق قرآنِ کریم میں پیشگوئیاں پائی جاتی ہیں جو اپنے وقتوں پر ظاہر ہوتی ہیں۔مثلاً چاند اور سورج گرہن ہونے کی پیش گوئی تیرہ سوسال کے بعد جا کر پوری ہوئی۔اب اگر انسان پر قرآن کریم کی حکومت تیرہ سوسال پر پھیلی ہوئی نہیں تھی تو قرآن کریم میں تیرہ سو سال کے بعد پوری ہونے والی کسی پیشگوئی کی ضرورت نہیں تھی اور اگر قرآن کریم کی حکومت قیامت تک پھیلی ہوئی نہیں ہے تو قیامت تک کی پیشگوئیاں اس میں نہیں ہوں گی لیکن قیامت تک پھیلی ہوئی پیشگوئیاں اس میں موجود ہیں۔قرآن کریم کے نزول پر ، اس کامل کتاب کے نزول پر اب قریباً چودہ سو سال گزر چکے ہیں۔اس کا ماضی بھی عملاً یہ بتا تا ہے کہ مستقبل میں بھی خدا تعالیٰ اس کے ذریعہ سے انسان کے ساتھ یہی سلوک کرے گا کہ نئی سے نئی