خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 87
خطبات ناصر جلد ہفتم AL خطبہ جمعہ ۲۲ را پریل ۱۹۷۷ء انسانی ضرورت کے تمام روحانی علوم قرآن میں ہیں خطبه جمعه فرموده ۲۲ ۱۷ پریل ۱۹۷۷ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اس زمانہ میں دنیا علوم ظاہری میں بہت ترقی کر گئی ہے۔پچھلی دو ایک صدیوں میں تو ہزاروں ہزار بلکہ چھوٹی بڑی ملا کر اس سے بھی زیادہ شاید لاکھوں نئی تحقیقات ہوئی ہیں سائنس کے میدان میں بھی اور جو غیر سائنسی علوم ہیں مثلاً سیاست ہے، معاشرہ ہے، تاریخ ہے ان میں بھی۔جہاں تک دنیوی علوم کا اور ظاہری علوم کا تعلق ہے خواہ وہ سائنس کے میدان سے تعلق رکھتے ہوں یا غیر سائنسی میدان سے ، خواہ ان کا تعلق تحقیق سے ہو یا پرانی باتوں کو ذہن میں رکھنے اور یاد کرنے سے ہو جیسا کہ سکول اور کالج وغیرہ میں زیادہ تر جو حاصل شدہ چیز ہے اسے سکھایا جاتا ہے اور اس سے واقفیت پیدا کی جاتی ہے، بہر حال ظاہری علوم خواہ تحقیق سے تعلق رکھنے والے ہیں خواہ تحقیق سے تعلق رکھنے والے نہیں، خواہ سائنس سے تعلق رکھنے والے ہیں خواہ سائنس سے تعلق رکھنے والے نہیں ، ان تمام ظاہری علوم میں اور روحانی علوم اور قرآنی علوم میں بنیادی فرق ہے اور وہ فرق یہ ہے کہ قرآن کریم کے جو علوم ہیں ان کے حصول کے لئے ایک شرط ہے اور پھر خدا تعالیٰ نے ایسے علوم کے سیکھنے والوں کے لئے اسی شرط کے ساتھ اس کے استعمال کو بھی باندھ دیا ہے اور