خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 606 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 606

خطبات ناصر جلد ششم ۶۰۶ خطبہ جمعہ ۱۹ نومبر ۱۹۷۶ء اللہ تعالیٰ سے دور نہ لے جائیں اور وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب نہ بن جائیں۔جیسا کہ میں نے شروع میں بتایا ہے اسی لئے اسلامی اجتماعات میں باطنی طہارت پر بڑا زوردیا گیا ہے۔باطنی طہارت اور پاکیزگی کیا ہے یہی کہ ہمارا جو پاک رب ہے انسان کو اس کا پیار حاصل ہوا اور اللہ تعالیٰ کا پیار اس کے لئے راحت اور سکون کا موجب بن جائے۔باطنی طہارت کے لئے انسان کو بڑی دعائیں کرنی پڑتی ہیں ورنہ قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمُ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ (الفرقان : ۷۸) کا اعلان قرآن کریم کر چکا ہے۔اللہ تعالیٰ کی ذات غنی ہے اس کو انسان کی کیا حاجت ہے۔انسان ہی کو ضرورت ہے کہ وہ خدا کے حضور عاجزانہ طور پر جھکے اور تضرع کے ساتھ دعا کرے تا کہ اُس کی رضا انسان کومل جائے۔اگر خدا کی رضا مل جائے تو گویا سب کچھ مل گیا کیونکہ اجتماعات کے موقع پر شیطان حملے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اس لئے ہمیں یہ کہا گیا کہ دعائیں کرو خدا تعالیٰ تمہارے لئے طہارتِ باطنی کے سامان بھی پیدا کرے گا۔ایسے موقع پر جب کہ بہت سے دوست اکٹھے ہو جاتے ہیں جیسا کہ ہمارے جلسہ سالانہ پر اکٹھے ہوتے ہیں طہارتِ ظاہری یعنی ظاہری پاکیزگی کی طرف بھی بہت توجہ دینے کی ضرورت ہے۔مجھے افسوس ہے کہ اہلِ ربوہ کو اس طرف توجہ نہیں رہی شاید اس لئے کہ لمبا عرصہ ہو گیا۔ہے۔میں نے اہلِ ربوہ کو صفائی کی طرف توجہ نہیں دلائی۔اب دورے سے واپس آنے کے بعد بہت سے دوستوں نے مجھے یہ بتانا شروع کیا ہے کہ اس طرف توجہ بہت کم ہوگئی ہے اور ہمارا یہ کافی صاف ستھرا شہر تھا، بالکل ہمارے آئیڈیل کے مطابق تو نہیں ہوا تھا وہ تو انسان کوشش کرتا رہتا ہے لیکن کافی صاف ستھرا شہر تھا مگر اب اتنا تھر انہیں رہا جتنا عام حالات میں بھی ہوتا ہے لیکن جلسہ کے ایام میں تو صفائی نمایاں طور پر نظر آنی چاہیے مثلاً بعض لوگ دیواروں پر لکھ دیتے ہیں۔مجھے تو یہ دیکھ کر بچپن سے غصہ چڑھا کرتا تھا کہ لوگ دیواروں کے اوپر اپنے اشتہار کیوں لکھ دیتے ہیں مگر اُس وقت اُس عمر میں تو میں زبان سے بھی نصیحت نہیں کر سکتا تھا۔یہاں کا تو مجھے علم نہیں میری نظر سے نہیں گزرا و الله اعلم لیکن لاہور وغیرہ میں تو بعض نہایت فخش قسم کے اشتہارات بھی دیواروں پر لکھے نظر آ جاتے ہیں۔دیوار میں اشتہار لکھنے کی جگہ تو نہیں۔اوّل تو یہ بھی مجھے شبہ ہے کہ