خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 597
خطبات ناصر جلد ششم ۵۹۷ خطبه جمعه ۵ /نومبر ۱۹۷۶ء ہوں اور وہ یہ ہے کہ مہمانوں کی تعداد جن میں بیرون ملک کے دوست بھی شامل ہیں ہر سال بڑھ رہی ہے اور جو رضا کارجلسہ سالانہ پر کام کرتے ہیں وہ اس نسبت سے نہیں بڑھ رہے جس نسبت سے مہمانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔مثلاً ابھی پچھلے چند سالوں میں ۶۰۔۷۰ ہزار سے سوالاکھ تک تعداد پہنچ گئی ہے۔اس طرح تعداد کے بڑھنے سے بعض چیزیں میرے مشاہدہ میں آتی ہیں۔اکثر لوگوں کی نظر میں نہیں آتی ہوں گی۔اُن کے متعلق میں پھر کسی وقت بات کروں گا لیکن جس تیزی کے ساتھ جلسہ کے مہمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اس تیزی کے ساتھ ہمارے رضا کاروں کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ افسر صاحب جلسہ سالانہ نے مجھ سے یہ بات کی ہے کہ ربوہ کے رضا کا راب پورے نظام جلسہ کو سنبھال نہیں سکتے۔اس لئے میں چاہتا ہوں کہ احمدی جور بوہ سے باہر رہتے ہیں ٹوکن کے طور پر بحیثیت جماعت اس انتظام میں شامل ہوں۔اور وہ احمدی بھی جو پاکستان سے باہر رہتے ہیں اور یہاں وفود کی شکل میں آتے ہیں وہ رضا کارانہ طور پر کام کریں لیکن تنظیم کے ماتحت یعنی ان کا اپنے آپ کو پیش کرنا رضا کارانہ ہوگا اور جب ان کی فہرست یہاں پہنچے گی تو وہ ایک نظام کے ماتحت ہوگی مثلاً کراچی کے نوجوان رضا کارانہ طور پر اپنی خدمات جلسہ کے کام کے لئے پیش کریں لیکن کراچی کی جماعت احمدیہ میں انصار کو نہیں کہہ رہا اور نہ خدام سے کہہ رہا ہوں) ان رضا کاروں کی فہرست مرکز میں بھجوائے گی۔وہاں کے رضا کار جماعت احمد یہ کراچی کو اپنے نام لکھوائیں گے اور جماعت احمد یہ کراچی ہمارے پاس ان کے نام بھیجے گی۔ہمیں زیادہ رضا کاروں کی ضرورت نہیں۔تھوڑے سے رضا کار چاہئیں۔کوئی چار پانچ سو کے درمیان رضا کاروں کی ضرورت ہے جو باہر سے آئیں گے اور ان کے حالات کے مطابق یہاں کے منتظمین اُن کی ڈیوٹیاں لگائیں گے۔ایک ہدایت میں نے کی ہے ضرور اور وہ یہ کہ اگر کھانا کھلانے کی ڈیوٹی ان کو دینی ہو تو سیالکوٹ کے جو رضا کار ہوں گے ان کی ڈیوٹی سیالکوٹ کی جماعتوں پر نہ لگائی جائے بلکہ سرگودھا کی جماعت پر لگائی جائے یا جھنگ کی جماعت پر لگائی جائے یا لائل پور کی جماعتوں کو کھانا کھلانے پر لگائی جائے۔اس طرح ان کی واقفیت اور تعارف اور تعلقات بڑھیں گے۔میل ملاقات زیادہ ہوگی اور یہ بھی