خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 576 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 576

خطبات ناصر جلد ششم ۵۷۶ خطبہ جمعہ ۲۲/اکتوبر ۱۹۷۶ء ایک جگہ بس اسی طرح کچھ سفر میں اور کچھ دو دو چار چار دن ٹھہر کر مختلف ملکوں کا دورہ کرتا رہا۔اس کے بعد لندن میں تو ویسے بڑی جماعت ہے اور بڑا کام ہے ساری ڈاک رکی ہوئی تھی جو یہاں سے جاتی ہے وہ نکالی اور کام کئے۔غرض یہ جو دو مہینے لگا تا رسفر کے ہیں اور پھر لندن کے قیام کے حالات ہیں ان کے بیان کے لئے تو دنوں چاہئیں لیکن موٹی موٹی باتیں میں نے بتادی ہیں۔اب اس کا خلاصہ میں بتا دیتا ہوں۔ایک یہ کہ مشرق و مغرب کو یہ احساس ہو گیا ہے کہ انہوں نے جو کچھ اپنی عقول سے حاصل کیا وہ ان کے لئے ناکافی ہے اُن کی فطرت کی تسلی کے لئے اُن کو کوئی چیز ملنی چاہیے۔دوسرے یہ بات ظاہر ہوئی کہ جو انتہائی تعصب رکھنے والے علاقے یا گروہ تھے اُن کے اندر یہ احساس پیدا ہو گیا ہے کہ جماعت کا اثر پھیل رہا ہے تا ہم جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا ہے کہ ابھی ہمارے کام کی ابتدائی سٹیج ہے یہ نہیں سمجھ لینا چاہیے کہ سارا امریکہ ایک دم میں مسلمان ہو جائے گا۔میں یہ کہتا ہوں کہ اگلے چودہ سال میں بڑی کوشش اور بڑی جدو جہد کرنی پڑے گی۔جہاں تک جماعت احمدیہ کے کردار کا تعلق ہے دنیا میں یہ احساس پیدا ہو گیا ہے کہ جماعت احمد یہ ترقی کر رہی ہے۔قرآن کریم نے ہماری تسلی کے لئے یہ اعلان کیا ہے :۔أو لَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا (الرعد : ۴۲) أَفَهُمُ الْغُلِبُونَ (الانبیاء : ۴۵) ایک Process شروع ہو چکی ہے۔Erosion شروع ہو چکا ہے اور یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ جس کے حق میں Erosion ہورہا ہو وہ ناکام ہو یعنی تدریجی ترقی دو باتیں ظاہر کرتی ہے ایک یہ کہ صداقت ہے کیونکہ سوائے صداقت کے لگا تار ترقی ملتے چلے جانا کسی دوسرے کے لئے ممکن ہی نہیں۔یعنی دو سال پانچ سال دس سال ہو جائیں پندرہ بیس سال ہو جائیں یہ کہ جب سے وہ Process شروع ہوئی ہے اور تدریجا ترقی کرتی چلی گئی ہے یہ صداقت ظاہر کرتی ہے اور دوسرے یہ کہ جس کے حق میں یہ تدریجی ترقی ہو رہی ہے اَفَهُمُ الْغَلِبُونَ ان کے مخالف غالب نہیں آتے یہی گروہ غالب آتا ہے جس کے حق میں تدریجی ترقی ہو رہی ہو۔ہمارے مخالف اور جب میں مخالف کا لفظ بولتا ہوں تو پاکستان کا ذکر نہیں کرتا