خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 490
خطبات ناصر جلد ششم ۴۹۰ خطبہ جمعہ ۲؍جولائی ۱۹۷۶ء بعد میں انسانی رو ( بہاؤ ) میں شامل ہوتی ہے وہ اس حقیقت کو نہ سمجھے اور ان کے کانوں میں بار بار بنیادی باتیں نہ پڑیں تو حقیقت سے ان کا تعلق ٹوٹ جاتا ہے اور اس سے بہت سی خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔پس جو بنیادی صداقتیں ہیں جن کے متعلق بار بار کہنے کی ضرورت پڑتی ہے ان میں سے بعض کو میں اس وقت لوں گا کیونکہ ایک خطبہ میں سب پر کچھ کہا بھی نہیں جاسکتا خصوصاً وہ خطبہ جوگرمی کا بیمار مختصر دے رہا ہو۔پس پہلی بنیادی بات جو بچپن میں ہمارے کانوں میں پڑی وہ یہ تھی کہ قانون شکنی نہیں کرنی لیکن اس وقت بڑوں کے مقام اور ان کی عزت و احترام کی وجہ سے ہم نے حکمت سمجھے بغیر اس کو صحیح تسلیم کر لیا۔پھر جب بڑے ہوئے تو ہم نے اس مسئلہ پر غور کیا تو اس بنیادی صداقت کی حکمتیں بھی ہمارے ذہن نشین ہو گئیں اس وقت چونکہ میرے مخاطب بچے بھی ہیں اور بڑی عمر کے بھی ہیں اس لئے میں بچوں سے تو یہ کہوں گا کہ انہیں سمجھ آئے یا نہ آئے اسلام کی اس بنیادی صداقت کو مان لینا چاہیے کیونکہ بڑی پر حکمت تعلیم ہے قرآن عظیم کی اِسے سمجھو اور دل میں گاڑلو۔یہ تعلیم اس لئے دی گئی کہ مسلمانوں نے دنیا کے ہر ملک میں پہنچنا تھا جس وقت قرآن کریم نازل ہوا اس وقت گو اس کے مخاطب عرب کے لوگ ہی تھے لیکن ساتھ یہ بھی اعلان کیا گیا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت عالمین کے لئے ہے آپ کو رَحْمَةٌ لِلْعَلَمِينَ بنا کر بھیجا گیا تھا۔پس چونکہ دنیا کے ہر ملک میں مسلمان نے جانا تھا اس واسطے بچے کو تو یہ کہا گیا کہ قانون شکنی نہیں کرنی اور بڑے کو اس کی حکمت بھی بتا دی کہ تم نے ہر ملک کے شہری کی حیثیت میں زندگی گزارنی ہے۔بعض ممالک اسلامی ہوں گے بعض کی حکومتیں غیر اسلامی ہوں گی۔لیکن ہر وہ حکومت جو ایک شہری کے حقوق کو قائم کرتی اور ادا کرتی ہے تم نے قطع نظر اس کے کہ حاکم کون ہے اس اصولی تعلیم کو یا درکھنا ہے کہ اولی الامر کی اطاعت کرنی ہے۔میں نے پچھلے خطبہ جمعہ میں بہت سی ایسی باتیں بتائی تھیں آج میں پھر اُن میں سے ایک بات کو لے رہا ہوں۔قرآن کریم کے الفاظ الہی انتخاب ہے۔اس پر غور کریں تو بڑا لطف آتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے حاکم وقت نہیں کہا بلکہ اولی الامر کہا ہے۔دراصل ایک قانون ہے اور ایک