خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 450
خطبات ناصر جلد ششم ۴۵۰ خطبہ جمعہ ۷ رمئی ۱۹۷۶ء جس کے فضل کے بغیر ہم اس کی رضا کی جنتوں کو نہیں پاسکتے۔وَ عَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں اور ان کے ایمان کی روح مردہ نہیں ہوتی بلکہ زندہ ہوتی ہے ان کے ایمان کی روشنی میں اندھیروں کی ملاوٹ نہیں ہوتی بلکہ خالص نور ہوتا ہے، اُن کے ایمان کے کسی پہلو میں خود نمائی، خودستائی اور خود پرستی اور اپنے آپ کو کچھ سمجھنے کا کوئی پہلونہیں ہوتا بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ایسا انسان سب کچھ کرنے کے بعد یہ سمجھتا ہے کہ میں نے کچھ بھی نہیں کیا کیونکہ سب کچھ کرنے کے بعد جو کچھ کیا اگر وہ خدا کی نگاہ میں مقبول نہیں ہوا تو اُس نے کچھ بھی نہ کیا اور جب انسان سب کچھ کرنے کے بعد سمجھتا ہے کہ میں نے کچھ نہیں کیا تو نتیجہ پھر بھی خدا تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت پر منحصر ہے۔پس وہ لوگ کامل تو گل کی راہ کو اختیار کرتے ہیں تب وہ جو محض مَتَاعُ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا تھا اس کی شکل بدل جاتی ہے اور ابدی زندگی کے سامان پیدا ہو جاتے ہیں جہاں ٹھہر نا کہیں نہیں۔قرآن کریم میں بھی اور قرآن کریم کی اس تفسیر میں بھی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی بڑی وضاحت سے یہ آیا ہے کہ جنتوں میں بھی کوئی صبح پہلی شام کے برابر نہیں ہوگی بلکہ وہ صبح اس سے زیادہ خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کر رہی ہوگی ہر دو پہر صبح سے آگے اور ترقی یافتہ ہوگی اور ہر شام دو پہر سے آگے ہوگی۔خدا تعالیٰ کے پیار کوزیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ایک غیر متناہی سلسلہ ہو گا۔عمل ہوگا امتحان کے بغیر ! خدا تعالیٰ کے پیار میں زیادتی کو جذب کرنے والا ، خدا تعالیٰ کی محبت کو اس کی رحمت کو اس کے نور کو اور بھی زیادہ حاصل کرنے والا عمل۔وہ کیا ہوگا ہمیں نہیں معلوم اس دنیا میں۔لیکن دیکھنے والی بات یہ ہے کہ وہ چیز جو اپنے نفس میں محض مَتَاعُ الْحَيَوةِ الدُّنْیا تھی اس میں کتنی عظیم تبدیلی پیدا ہوئی کہ اس نے ابدی زندگی کے سامان پیدا کر دیئے۔غرض ہر چیز جو خدا نے ہمیں دی ہے اس کا ایک پہلوتو یہ ہے کہ سوائے اس ورلی زندگی کے وہ اور کسی کام کی نہیں اور پھینک دینے کے قابل ہے لیکن ایک پہلو یہ ہے کہ ہر چیز کا استعمال خدا تعالیٰ کی منشاء کے مطابق استعمال ، خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے استعمال، وہ استعمال