خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 446 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 446

خطبات ناصر جلد ششم ۴۴۶ خطبہ جمعہ ۷ رمئی ۱۹۷۶ء اخلاق پر کتابیں لکھیں لیکن وہ بالکل پھپھی سی کتابیں ہیں۔میں آکسفورڈ میں اخلاقیات کا مضمون بھی پڑھتا رہا ہوں چنانچہ وہ کتب جو آکسفورڈ اور کیمبرج اور مغرب کی یونیورسٹیوں میں یا اب روس کی یونیورسٹیوں میں اساتذہ بڑے فخر سے پڑھاتے ہیں وہ لوگ جو دینی علوم سے واقف ہیں جب وہ ان کتب کو پڑھتے ہیں جن پر کہ مغرب فخر کرتا ہے تو وہ ہمیں بدمزہ ہی ، پھسپر سی اور لا یعنی سی کتابیں نظر آتی ہیں۔اخلاق کا حسن ان مصنفین کی آنکھوں سے پوشیدہ رہا اور اس کا خول اور میں کہوں گا کہ وہ بھی کرم خوردہ، اُن کے سامنے آیا اور انہوں نے اس کے متعلق لکھنا شروع کر دیا ور بڑی شہرت حاصل کی اور بڑا نام پیدا کیا لیکن وہ مَتَاعُ الْحَیٰوۃ الدنیا تھی ، ان کی شہرت اور ان کی ناموری کا تعلق محض اس ورلی زندگی کے ساتھ تھا اور ور لی زندگی کی چیزیں ، خود ور لی زندگی ہی بھول جاتی ہے۔ایک نسل کے بعد دوسری نسل پیدا ہوتی ہے اور نئی نسل کے سامنے نئے چٹکلے رکھ دیئے جاتے ہیں اور پرانی باتیں نئی نسل بھول جاتی ہے۔ان کتابوں کے نام بھی یاد نہیں رہتے ان کے مضامین بھی یاد نہیں رہتے۔صرف وہی چیزیں یاد رکھی جاتی ہیں جو مذہب کی خوبیوں کو بیان کرنے والی ہیں یا جو بگڑی ہوئی انسانی فطرت کی برائیوں کو بیان کرنے والی ہیں کیونکہ انہیں بچے اور حقیقی مذہب کی خوبیوں کو اجاگر کرنے کے لئے یادرکھنا پڑتا ہے۔یہ میں نے اس لئے کہا ہے کہ انگلستان میں ایک مشہور لبرل مصنف نے غالباً ۱۸۳۶ء میں ایک کتاب لکھی جس میں اس نے بعض پہلوؤں سے ایک مذہب کی بہت گھناؤنی شکل کھینچی کیونکہ اس وقت اس مذہب کے اجارہ دار بھی اس قوم کے استحصال میں شامل تھے۔میں اپنی پڑھائی کے سلسلہ میں ایک مضمون لکھ رہا تھا تو اس کتاب کا نام اور لکھنے والے کا نام کسی ضمن میں دیکھا۔اس نام سے میں نے اندازہ لگایا کہ یہ ہم احمدیوں کے کام کی کتاب ہے۔جب ہم اسلام کا دوسرے مذاہب کے ساتھ موازنہ کریں تو یہ کام آئے گی۔چنانچہ وہاں ایک بہت بڑی دُکان بَلَيْكَ وَلز ہے میں اس دکان پر گیا اور میں نے کہا کہ مجھے یہ کتاب چاہیے۔وہ کہنے لگے کہ ۱۸۳۶ء کی چھپی ہوئی کتاب جو کہ اپنی ضرورت پوری کر چکی ہے وہ اب کہاں ملتی ہے۔اس کو تو