خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 385
خطبات ناصر جلد ششم ۳۸۵ خطبه جمعه ۱/۲ پریل ۱۹۷۶ ء ان پر پابندیاں تھیں مثلاً مردوں نے سونا نہیں پہنا اور ہیرے جواہرات کا استعمال نہیں کرنا۔مسلمانوں سے لوٹا ہوا مال اب تک سپین میں ایک جگہ اکٹھا ہے جب ہم قرطبہ کی مسجد دیکھنے گئے تو ان کا سالانہ میلہ تھا۔انہوں نے مسلمانوں سے لوٹے ہوئے ہیرے جواہرات وغیرہ ایک بہت بڑے تابوت میں رکھے ہوئے ہیں اور سال میں ایک دن وہ اسے باہر نکال کر سارے شہر میں پھراتے ہیں۔سپین کے رہنے والے ایک پروفیسر مجھے کہنے لگے کہ اس صندوق میں اڑ ہائی ٹن ہیرے جواہرات ہیں۔وہ تابوت کی طرز کا ایک بہت بڑا صندوق تھا اور پہیوں والی گاڑی کے اوپر رکھ کر اسے شہر میں پھراتے تھے۔غرض اس قدر ہیرے جواہرات تھے میں نے بھی وہ نظارہ دیکھا، قرطبہ دیکھا پھر الحمرا اور غرناطہ کے محل دیکھے اگر چہ سب جگہ تو ہم نہیں جا سکے تھے۔وہاں جو نشان باقی ہیں ان سے پتہ لگتا ہے کہ انہوں نے مساجد کو بہت سجایا تھا اور اس نیت سے سجایا تھا کہ ہم ان ہیرے اور جواہرات کو خدا کے گھر کی سجاوٹ کے علاوہ اور کہاں خرچ کریں۔کس مصرف میں لائیں؟ ویسے تو مسجد بڑی سادہ ہونی چاہیے۔اللہ تعالیٰ کی مسجد ہے اور اس میں ریا کی خاطر نقوش کرنے اور اس کے اندر ہیرے جواہرات لگانے کی تو اسلام اجازت نہیں دیتا لیکن اگر کسی قوم کو خدا تعالیٰ اتنی کثرت سے ہیرے جواہرات دے دے کہ وہ اپنے پر اور اپنی بیویوں پر بھی ان کو خرچ نہ کرنا چاہیں یعنی ان کے استعمال میں نہ لانا چاہیں تو اگر وہ اس نیت سے کہ خدا یا پھر ہم ان کو کہاں رکھیں تیرے گھر میں ہی دیواروں پر لگا دیتے ہیں۔پس اگر اس نیت حسنہ کے ساتھ انہوں نے یہ لگائے تو انہوں نے اپنی نیتوں کے مطابق ثواب حاصل کر لیا لیکن جس کوشش اور جس قربانی کے نتیجہ میں یہ دنیا کے اموال ملے تھے میں اس وقت اس کی طرف آپ کو توجہ دلا رہا ہوں وہ قربانی تو بہت ہی حقیر تھی۔میرے خیال میں جب یہ دس ہزار سپاہی گئے ہیں جس وقت مسلمانوں کی یہ پہلی فوج طارق کی قیادت میں وہاں اتری اور انہوں نے اپنی کشتیاں جلا دیں تو شاید ساری فوج کے پاس ایک ہیرا بھی نہیں ہوگا اور پھر خدا تعالیٰ نے انہیں بے شمار ہیرے اور جواہرات دیئے۔وہ دشمن کی لاکھوں کی فوج کے مقابلہ کے لئے گئے تھے کیونکہ اس وقت وہاں ایسے متعصب عیسائی بادشاہ تھے جو اسلام کے خلاف اور