خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 334
خطبات ناصر جلد ششم ۳۳۴ خطبہ جمعہ ۱۳ رفروری ۱۹۷۶ء ملک سے غربت اور بھوک کو دور کر دیا ہے ہمارے عوام ہمارا خدا ہیں۔پھر ہماری یہ دنیا اور ہمارا یہ ملک جس میں ہم بستے ہیں اس میں بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ دولت ہی سب کچھ ہے اس واسطے جائز اور ناجائز طریقوں سے روپیہ کماؤ۔بعض لوگوں کو یہ خیال پیدا ہو جاتا ہے کہ سیاسی اقتدار ہی سب کچھ ہے اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ جائز اور ناجائز طریقوں سے سیاسی اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے لیکن اسلام یہ نہیں کہتا۔اسلام کہتا ہے کہ اسباب تو درست ہیں لیکن ان کا ایک مستب بھی ہے۔یہ علمل جو کہ ایک کے بعد دوسری کو پیدا کرتی چلی جاتی ہے یہ تو موجود ہیں لیکن ان سب پیچھے ایک علت العلل بھی ہے۔عام آدمی اور بچے شاید اس اصطلاح کا مفہوم نہیں سمجھ سکیں گے اس لئے یوں کہو کہ وہ ہستی جو دنیا کے تمام اسباب اور علل کو پیدا کرنے والی ہے۔میں نے جو مثال دی تھی اس کے لحاظ سے بعض لوگوں نے کہا کہ بارش پانی برساتی ہے بعض نے کہا کہ ہوائیں بادلوں کو لے کر آتی ہیں اس لئے ان کی وجہ سے پانی برسا۔قرآن کریم نے سورہ ٹور میں ذرا تفصیل کے ساتھ یہ بتایا ہے کہ اللہ وہ ہے کہ جس نے وہ سبب اور سامان پیدا کئے کہ جن کے ذریعے سے سمندروں پر بخارات بنتے ہیں پھر یہ انتظام کیا وہ بخارات جو اپنے اندر بڑا پھیلا ؤ رکھنے کی وجہ سے بارش برسانے کے قابل نہیں ہوتے ان کو ہوا ئیں بعض سمتوں کی طرف لے جاتی ہیں۔پھر وہاں ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں کہ ان بخارات میں ایک اتصال اور اتحاد پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے پھر اس کے بعد خدا تعالیٰ ایسے سامان پیدا کرتا ہے کہ تہہ بہ تہہ بادل بن جاتے ہیں جن کو ہم کالی گھٹا میں کہتے ہیں اور پھر خدا تعالیٰ گرمی، سردی اور ہوا کے دباؤ وغیرہ وغیرہ کے ذریعے ایسے سامان پیدا کرتا ہے کہ جن لوگوں کو وہ اپنی بارش کی رحمت سے نوازنا چاہتا ہے اس طرف ہوا ئیں اُن بادلوں کو لے جاتی ہیں اور وہ وہاں برستے ہیں اور بعض لوگوں کو خدا تعالیٰ اپنے غصے کے اظہار کے لئے اور اس لئے کہ وہ سمجھیں اور اپنے پیدا کرنے والے رب کی طرف واپس آئیں ان بادلوں سے محروم کر دیتا ہے۔اس چیز کے اظہار کے لئے اسلام نے کہا کہ تقدیر ہے اور خدا تعالیٰ جو کہ علت العلل ہے اس نے اس حقیقت کی طرف توجہ پھیرنے کے لئے یہ کہا کہ ہوتا وہ ہے جو خدا چاہتا ہے۔وہ نہیں ہوتا جو سمندر کے بخارات چاہتے ہیں نہ وہ ہوتا ہے جو وہ