خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 310 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 310

خطبات ناصر جلد ششم ۳۱۰ خطبه جمعه ۲۳ /جنوری ۱۹۷۶ء ان کی ساری کتاب پڑھی ہے بڑا لطف آتا ہے ان کی کتاب پڑھنے سے۔اب اس زمانہ ہی کو دیکھ لو مسلمانوں کی جو دنیا ہے اس میں لباس کے بارہ میں بدعات آ گئیں، کوئی ایک انتہا پر پہنچا ہوا ہے تو کوئی دوسری انتہا پر۔گویا مسلمان افراط و تفریط کا شکار ہیں۔کچھ لوگوں نے کہا جس طرح یورپ میں مردوں اور عورتوں کا عام طور پر آدھے ننگے پھرنے کا رواج ہے اُسی طرح مسلمان بھی لباس پہن لیں تو کیا حرج ہے۔مسلمان بھی کہلاتے ہیں اور اس قسم کے لباس پہننے میں کوئی حرج بھی نہیں سمجھتے اور ستر جس کا اسلام نے حکم دیا ہے اس کی پرواہ نہیں کرتے اور دوسری طرف تفریط کا یہ حال ہے کہ اگر لباس ٹخنوں سے نیچے ہو تو مارنے لگ جاتے ہیں۔اس سلسلہ میں میں آپ کو ایک لطیفہ سنا دیتا ہوں۔پچھلے سال جب میں لندن میں تھا تو وہاں مجھے پتہ لگا کہ ایک کمیونسٹ ملک ہے جس میں بہت سے ایسے علاقے بھی ہیں جہاں مسلمان رہتے ہیں اور ان کو آزادی ہے کہ وہ نمازیں اور قرآن کریم خود بھی پڑھیں اور بچوں کو بھی پڑھوائیں لیکن ماحول ایسا گندہ ہے کہ بہت سے بچوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے لیکن کوئی سختی نہیں کرتا۔غیر ملک سے بعض علماء وہاں گئے تو انہوں نے دیکھا کہ ان کی پتلونیں ٹخنوں سے نیچے گئی ہوئی ہیں کہنے لگے تم کہاں کے مسلمان ہوئے ، ان کی پتلونیں ٹخنے سے نیچے ہیں۔اس لئے ان کو سبق دینے کے لئے انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ جب نماز کھڑی ہو تو ایک آدمی نماز میں شامل نہ ہو بلکہ وہ ڈنڈا پکڑ لے اور جب سارے نماز کی نیت باندھ لیں اُس وقت ان کے ٹخنوں پر ڈنڈا مارے اور کہے کہ تمہاری پتلونیں ٹخنوں سے نیچے گئی ہوئی ہیں تم نماز کیسے پڑھ رہے ہو۔غرض بجائے ان کو سمجھانے کے ڈنڈے مارنے کا طریق اختیار کیا حالانکہ سمجھانا بھی غلط طریق ہے چہ جائیکہ ڈنڈے مارنا۔اصل تو یہ مسئلہ نہیں ہے اور میں ابھی بتا تا ہوں کہ اصل مسئلہ کیا ہے غرض جب لوگوں نے ڈنڈے کھائے تو ان کو بہت غصہ آیا کہ یہ مسجد کی بے حرمتی ہے اور نماز کی بے حرمتی ہے۔دوسری طرف جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ آدھے ننگے پھرنے والے مسلمان یہ سمجھنے لگ گئے کہ کوئی بات نہیں یہی لباس ٹھیک ہے۔میں ساری دنیا کے مسلمانوں کی بات کر رہا ہوں صرف پاکستان کی بات نہیں کر رہا لیکن عثمان فودی نے وہ ساری حدیثیں نوٹ کر دیں جن میں لباس کے متعلق ہدایات دی گئی ہیں اور اس سلسلہ میں