خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 235 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 235

خطبات ناصر جلد ششم ۲۳۵ خطبه جمعه ۲۸ /نومبر ۱۹۷۵ء صرف رب کے حضور اس کا اجر ہے کسی اور جگہ سے وہ ملتا ہی نہیں اور مل بھی کیسے سکتا ہے جب کہ اس کے اجر میں جنتیں بھی شامل ہیں جن کو اس دنیا کی نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ جن کے متعلق اس دنیا کے کسی کان نے سنا اور نہ جن کی لذت کو اس دنیا کی کسی جس نے محسوس کیا یعنی اجر کے جن پہلوؤں کا تعلق اُخروی زندگی کے ساتھ ہے۔اُخروی جنتوں کے ساتھ ہے وہ انسان، انسان سے کیسے لے سکتا ہے یہ ممکن ہی نہیں عقلاً ممکن نہیں پھر اس دنیا میں جو اجر ملتا ہے اس دنیا کی جو جنتیں ہیں وہ بھی انسان کے لئے ممکن نہیں کہ وہ پیدا کر سکے۔چنانچہ بڑے عنظمند لوگ، بڑے مہذب تربیت یافتہ اور تعلیم کے میدانوں میں آگے نکلے ہوئے چاند اور ستاروں پر کمندیں ڈالنے والے بھی اپنے اپنے ملک میں سکینت اور اطمینانِ قلب کا انتظام نہیں کر سکے۔ہر جگہ فتنہ و فساد نظر آتا ہے۔اب دیکھنے والی بات یہ ہے کہ وہ کون سی چیز ہے جس سے ایک مسلمان اس دنیا میں جنت کا وارث بن جاتا ہے اور وہ اسے سکون اور اطمینانِ قلب بخشتی ہے۔یہ وہی اللہ تعالیٰ کی رضا ہے اور اللہ تعالیٰ کے پیار کی باتیں ہیں کہ جس وقت ساری دنیامل کر خدا کے ایک پیارے بندہ کو دکھ دینے اور ستانے کے لئے جمع ہو جاتی ہیں اس وقت خدا کے پیارے کی یہ آواز کہ تو ان سے نہ ڈر میں تیرے ساتھ ہوں ، سارے غموں کو بھلا دیتی ہے اور ایک ایسا اطمینانِ قلب پیدا ہوتا ہے کہ انسان اپنے دکھ بھول جاتا ہے یہی وہ سکون ہے اور یہی وہ مسکراہٹیں ہیں جن کے متعلق میں جماعت کو ہمیشہ کہتا رہا ہوں خصوصاً پچھلے دو سال سے حالات کے مطابق مجھے کثرت سے کہنا پڑا کہ تمہاری مسکراہٹوں کو دنیا کی کوئی طاقت اس لئے نہیں چھین سکتی کہ تمہاری مسکراہٹوں کا منبع اور سر چشمہ اللہ تعالیٰ کا پیار ہے جسے دنیا کی کوئی طاقت چھین ہی نہیں سکتی۔اس لئے تو پھر ہم پر بطور فرض عائد ہوتا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے پیار کو زیادہ سے زیادہ حاصل کریں اور اپنی غفلتوں، کوتاہیوں، گناہوں اور بے راہ روی کے نتیجہ میں خدا کے پیار سے خود کو محروم نہ کر لیں۔اس لئے دوست دعا کریں اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے اعمال مقبول اور سعی مشکور کی۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے ایسے اعمال کے بجالانے کی جن سے وہ راضی ہو جائے۔اللہ تعالیٰ ہمیں حسن و احسان کی توفیق دے اور اپنی (اللہ کی) صفات کے جلووں کو دنیا میں پھیلانے کی توفیق عطا کرے اور وہ ہم سے