خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 226 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 226

خطبات ناصر جلد ششم ۲۲۶ خطبه جمعه ۲۱ نومبر ۱۹۷۵ء کے دو سال کے وعدے ( جو استثنی ہیں وہ نکال کر ) کم و بیش ستر ہزار پاؤنڈ بنتے ہیں یعنی قریباً ۱۷۔۱۸ لاکھ روپیہ۔لیکن وہاں بعض چھوٹی چھوٹی جماعتیں ہیں وہ اپنے چندے وہاں بھیج دیتے ہیں وہ بھی کئی ہزار بن جاتے ہیں۔میرا اندازہ ہے کہ پچھتر ہزار پاؤنڈ سے اتنی ہزار پاؤنڈ تک ان کا ان دو سالوں کا چندہ بن جائے گا۔یہ جو میں نے کہا تھا کہ وہاں ایک دوسرا گروہ ہے بات دراصل یہ ہے کہ وہ گروہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اور ان کے چند ساتھیوں کا ہے ان کا چندہ دس لاکھ پاؤنڈ میں سے ( جو انگلستان کا ٹوٹل چندہ ہے ) ساڑھے چار۔پونے پانچ لاکھ پاؤنڈ ہے لیکن انہوں نے اپنی سکیم کے مطابق جس کی مجھ سے اجازت لی ہے یہ وعدے کئے ہیں۔چونکہ وہاں ان کی واقفیت بہت سیارے دوستوں سے ہے اور وہ دنیا میں چوٹی کے آدمی ہیں۔ان کی سکیم یہ ہے کہ اگر اس وقت ہم رقم Invest ( انوسٹ) کر دیں، تجارت پر لگا دیں تو ہمیں امید ہے کہ یہ رقمیں دگنی ہو جائیں گی بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ ہو جائیں۔میں نے کہا ٹھیک ہے آپ وہاں لگا دیں۔چنانچہ انگلستان کا نصف حصہ تو ہر سال پیسے دے کر اور اپنے وعدوں کا حصہ دے کر ہر سال کی ضرورت میں اس طریق سے حصہ لے رہا ہے لیکن انہوں نے اپنا تاجرانہ حساب کر کے جو نفع وغیرہ آنا ہے اس کے حساب سے پہلی رقم ۱۹۷۷ ء کے آخر میں دینی ہے انشاء اللہ۔اور یہ ہے اکٹھی بڑی رقم۔کوئی ایک لاکھ تیس ہزار پاؤنڈ بنتی ہے۔یہ بہر حال انگلستان کی جماعت کی رقم ہے اور میں نے ان کو کہا ہے کہ اس رقم سے تم اوسلو کی مسجد بناؤ اور اللہ تعالیٰ ایسا فضل کرنے والا ہے کہ ہمارا Architect ( آرکیٹیکٹ ) اور Contractar ( کنٹریکٹر ) جنہوں نے گوئٹن برگ کی مسجد بنانی ہے اور وہ نقشے بنا رہے ہیں۔وہ اپنے کام کے سلسلہ میں اوسلو جارہے تھے تو ہمارے مبلغ سے کہنے لگے کہ ہم بھی وہاں جا کر آپ کے لئے ، آپ کی مسجد کے واسطے کوئی زمین تلاش کریں گے ابھی وہاں زمین تلاش کرنے کا مرحلہ ہے چنانچہ ان کو بھی ایک دلچسپی پیدا ہوگئی ہے۔اصل منصوبہ یہ ہے کہ پریس ہوں۔اصل منصوبہ یہ ہے کہ مساجد اور مشن ہاؤس بنہیں۔پریس کے ساتھ مجھے کہنا چاہیے کہ پریس ہوں اور ہم دنیا کی ضرورت کے مطابق سستا اور اچھا