خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 190
خطبات ناصر جلد ششم ١٩٠ خطبہ جمعہ ۷ /نومبر ۱۹۷۵ء سے اور ہر لحاظ سے اس نے اپنی عطا سے ہماری جھولیوں کو بھر دیا اور ہم سے یہ مطالبہ کیا کہ جو کچھ بھی میں نے تمہیں دیا ہے اس میں سے میری راہ میں میرے کہنے پر اور میری تعلیم کے مطابق میری توحید کے قیام کے لئے میرے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کو نوع انسانی کے دلوں میں پیدا کرنے کے لئے خرچ کرو۔جو سرمایہ ہے وہ بھی اسی کا ہے لیکن احسان عظیم فرماتے ہوئے وہ ہمیں یہ کہتا ہے کہ میرے ساتھ تجارت کرو گے تو گھاٹے میں نہیں رہو گے۔میرے ساتھ تجارت کرو گے اور میرے ہی مال کو مجھے واپس دو گے، میری ہی عطا کردہ قوتوں کو میری راہ میں خرچ کرو گے، میری ہی دی ہوئی زندگی کے دنوں کو میری عبادات میں میری تسبیح وتحمید میں اور میرے بندوں کی خدمت میں لگاؤ گے اور اگر ضرورت پڑے تو جو موت میں نے تمہارے لئے مقدر کی ہے اس کو بشاشت سے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے اس موت کو میرے لئے قبول کرلو گے تو تمہیں عذاب الیم سے بچایا جائے گا اور اگر ایسا نہیں کرو گے تو عذاب الیم میں مبتلا ہو گے۔ان آیات میں بہت لمبا مضمون ہے مگر اس تفصیل میں میں اس وقت نہیں جاؤں گا۔صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ مالی جہاد کو بھی اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک عظیم جہاد قرار دیا ہے اور انسان اگر عقل اور فراست رکھتا ہو تو حیران ہوتا ہے کہ وہ خود ہی ہمارے ہاتھوں میں دولت دیتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے دو گے (اس میں سے جو میں نے تمہیں دیا ہے ) تو میں تمہیں عذاب الیم سے بچا لوں گا۔پس یہ گھاٹے کا سودا نہیں یہ تو بڑا ہی نفع مند سودا ہے اور جولوگ اس سے غفلت برتتے ہیں، جو اس کی طرف توجہ نہیں کرتے، جو اس کو اچھا نہیں سمجھتے ، جو اس کی حقیقت کو نہیں پہچانتے ، جوا اپنی نسلوں کی بہبود کا خیال نہیں رکھتے، جو اپنے مستقبل کی پرواہ نہیں کرتے جو اُخروی زندگی کا تصور اپنے دماغوں میں نہیں لاتے اور اللہ تعالیٰ نے جو بشارتیں دی ہیں ان بشارتوں کے مطابق خدا تعالیٰ کے فضلوں اور اس کی رحمتوں کے حصول کے لئے کوشاں نہیں، وہ بڑے ہی خسارے میں ہیں۔وہی عذاب الیم ہے۔جس نے خدا کو ناراض کر لیا اس سے بڑا اور کیا عذاب اس کو ملے گا۔اللہ تعالیٰ نے اس بات کو انسان کی اپنی سمجھ پر نہیں چھوڑا کہ وہ کب اور کس طرح اور کن راہوں