خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 68
خطبات ناصر جلد ششم ۶۸ خطبه جمعه ۲۱ فروری ۱۹۷۵ء نے فیصلہ کیا کہ مسلمان جو مظلوم ہیں اور بڑی بڑی طاقتیں ان پر حملہ آور ہو رہی ہیں ان کی فوج میں گھوڑ سوار فوج بھی ہو۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑ سوار فوج کی تربیت کا فیصلہ کیا تو عرب نسل گھوڑے کی نشوونما ہوئی اور گھوڑوں کے جو ماہر ہیں عیسائی ہو یا دہر یہ ہو ، غیر مسلم یورپ اور امریکہ کے رہنے والے ان کی متفقہ رائے یہ ہے کہ "There is no horse in the world but Arab" یعنی دنیا میں گھوڑا تو ایک ہی ہے اور وہ عرب ہے۔باقی تو ویسے ہی اس کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔تو مجبور ہو گئے حالانکہ یہ اتنا چھوٹا سا احسان ہے آپ کے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے انسانیت پر بہت بڑے احسان ہیں اور بے شمار احسان ہیں بڑے بھی اور چھوٹے بھی ، ایک چھوٹا سا احسان گھوڑے کا ہے اور اس چھوٹے سے احسان کو غیر مسلم دنیا تسلیم کرتی ہے اس کا ذکر کرتی ہے اور کتا ہیں جو ہیں ان میں اس قسم کی تحریریں ملتی ہیں۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُمت سے یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ قیامت تک اگر تم چاہو تو گھوڑوں میں جو برکت رکھی گئی ہے اس سے تم فائدہ حاصل کر سکتے ہو آپ نے فرما یا کہ قیامت تک کے لئے گھوڑوں کی پیشانیوں میں میری اُمت کے لئے اللہ تعالیٰ نے برکت رکھ دی ہے۔اللہ تعالیٰ نے وَإِذَا الْعِشَارُ عُظَلَتْ (التکویر : ۵) تو کہا لیکن گھوڑوں کے متعلق ایسا نہیں کہا کہ کسی زمانہ میں قیامت تک ایسا بھی ہوگا کہ گھوڑوں کی ضرورت نہیں رہے گی یا انسان کو گھوڑے کی برکت سے فائدہ اُٹھانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ہم گھوڑوں میں دلچسپی رکھتے ہیں آج گھوڑ دوڑ کا مقابلہ بھی ہے اور گھوڑوں والے اپنے گھوڑے لے کر آئے ہوئے ہیں ( مانگے کے نہیں ) ہم گھوڑوں میں دلچسپی اس لئے نہیں لے رہے کہ ہم گھوڑوں کی پرستش کرتے ہیں نہ اس لئے کہ ہم خدا کو چھوڑ کر یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کو نظر انداز کر کے ہم گھوڑوں سے کوئی فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔ہمیں گھوڑوں سے اس لئے پیار ہے کہ ہمارے محبوب آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو گھوڑوں سے پیار تھا۔ایک کہاوت ہے لمبی کہانی۔وہ تو میں نہیں سناؤں گا اس وقت ،