خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 621
۶۲۱ خطبہ جمعہ ۱۰؍ دسمبر ۱۹۷۶ء خطبات ناصر جلد ششم کیا اس پر ہم ایمان لائے ہیں کیونکہ خدا نے کہا تھا کہ اس پر ایمان لاؤ۔ہم قرآن کریم پر ایمان لائے ہیں۔مذہب کا ایک حصہ فقہ ہے یعنی اپنے اجتہاد سے مسائل کے متعلق فتویٰ دینا۔ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ ہماری فقہ حنفی فقہ ہے یعنی امام ابو حنیفہ کی جو فقہ ہے وہ جماعت احمدیہ کی فقہ ہے اس اختلاف کے ساتھ کہ جہاں جماعت احمدیہ کا اجتہاد ہوگا وہاں جس حد تک یہ اجتہاد حنفی فقہ سے اختلاف رکھے گا تو ہماری فقہ ہمارا اجتہاد ہو گا لیکن جہاں جماعت احمدیہ کا اپنا کوئی اجتہاد نہیں وہاں ہم اپنے معاملات نکاح ورثہ وغیرہ میں حنفی فقہ کے تابع ہیں لیکن بہت سی جگہ جہاں جماعت احمدیہ کے اجتہاد نے اختلاف کیا ( میں یہ فقرہ جان بوجھ کر بول رہا ہوں میں جماعتِ احمدیہ کے کسی فرد کا اجتہاد نہیں کہہ رہا بلکہ جماعت احمدیہ کے اجتہاد نے جہاں اختلاف کیا ) وہاں ہم حنفی فقہ سے فقہیں اختلاف کرتے ہیں اور اس پر کوئی اعتراض بھی نہیں کیونکہ تمام فقہاء کا اور ان کی جو مختلف ہیں حنفی ، شافعی ، حنبلی ، مالکی وغیرہ ہر ایک نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ فقہی مسائل میں اختلاف ہوسکتا ہے اور وہ قابل اعتراض بات نہیں۔یہ متفقہ فیصلہ ہے کسی نے اس میں اختلاف نہیں کیا۔تو جو فیصلہ پہلے دے چکے اس میں دی گئی آزادی کے مدنظر اور جونور ہم نے مہدی کے ذریعہ حاصل کیا اس کی وجہ سے ہمارا یہ حق ہے کہ ہم اجتہاد کریں اور جہاں ہمیں ایک نئی اجتہادی روشنی حاصل ہو وہاں ہم حنفی فقہ سے اختلاف کریں۔ورنہ جہاں یہ بات نہیں یا جب تک کسی مسئلہ کے متعلق یہ نہیں ہم حنفی فقہ پر عمل کرنے والے اور اس کے پابند ہیں۔اللہ واحد و یگانہ ہمارا اللہ ہمارا رب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو خاتم الانبیاء ہیں ہمارے رسول ، قرآن عظیم ہماری کتاب اور اسلام ہمارا مذہب ہے یہ ہے عقیدہ ہمارا۔کوئی اور سمجھے کہ ہمارا کچھ اور عقیدہ ہے تو اس کو ہم اس کے خدا کے حوالے کرتے ہیں کہ جو دلوں کا حال جاننے والا ہے۔وہ آپ ہی فیصلہ کرے گا۔یہاں فیصلے مشکل ہو جاتے ہیں اور مذہب کا تو اصل ثواب اور اس کی جزا مرنے کے بعد ملتی ہے۔پس جب انسان مرے گا اور خدا کے حضور پیش ہوگا تو وہ آپ ہی فیصلہ کر دے گا کہ کس کے دل میں کیا تھا اور کس کے دل میں کیا نہیں تھا۔بہر حال جو ہم محسوس