خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 577
خطبات ناصر جلد ششم ۵۷۷ خطبہ جمعہ ۲۲/اکتوبر ۱۹۷۶ء کیونکہ پاکستان اس وقت میرے مد نظر نہیں۔غیر ممالک میں جو ہماری مخالف طاقتیں تھی ان کے اندر یہ احساس پیدا ہو چکا ہے اور ان میں روس بھی شامل ہے کہ جماعت احمدیہ کی تدریجی ترقی اس قسم کی ہے کہ انہیں ہمارے نزدیک آنا چاہیے۔دشمنی کے لئے یا دوستی کے لئے یہ خدا ظاہر کرے گا لیکن پہلے تو کہتے تھے ان کا کیا ہے یہ کس شمار میں ہیں ان کو چھوڑ ولیکن اب حالت بدل گئی ہے اور یہ بڑی چیز ہے۔اب وہ سمجھ رہے ہیں کہ جماعت احمد یہ کچھ ہے اور ہمیں ان کی طرف توجہ کرنی چاہیے اور یہ بڑی عظیم تبدیلی ہے جو نوع انسان کے دماغ میں آگئی ہے اور میں اس وقت عالمی نقطۂ نظر سے بات کر رہا ہوں۔تیسرے یہ بات سامنے آئی کہ جن لوگوں کے سامنے بھی اسلامی تعلیم رکھی انہوں نے اس کا اثر قبول کیا۔ایک موقع پر حساب کا ایک پروفیسر استقبالیہ میں شامل تھا۔اس نے ہاتھ میں ریفریشمنٹ کی کوئی چیز پکڑی ہوئی تھی تو پتہ نہیں اس نے کتنا عرصہ پونا گھنٹہ یا کتنا میری باتیں سنتا رہا۔اس طرح معلوم ہوتا تھا کہ گویا وہ مسحور ہو گیا ہے اس کو یہ پتہ ہی نہیں کہ اس کے ہاتھ میں رکابی پکڑی ہوئی ہے ان کی عادت ہے کہ بیچ میں گھونٹ لیتے ہیں۔بوتلیں دیتے ہیں کوکا کولا وغیرہ سافٹ ڈرنکس ان کے مطلب کی پینے کی چیز تو نہیں لیکن دوران گفتگو اس طرح معلوم ہوتا تھا کہ اس کو پتہ ہی نہیں کہ کوئی کھانے کی چیز یا پینے کی چیز اس کے ہاتھ میں ہے۔وہ بڑے غور سے باتیں سن رہا تھا اور بڑا اثر قبول کر رہا تھا اسلامی تعلیم سے۔گویا جن لوگوں کے سامنے ہم اسلامی تعلیم پیش کرتے ہیں وہ اس کا اثر قبول کرتے ہیں۔چوتھے یہ چیز ابھر کر سامنے آئی کہ اپنی ذمہ داری نباہنے میں ابھی ہم بڑے کمزور ہیں یعنی ہمارے پاس ابھی تک وہ ذرائع نہیں کہ اس بھوکی دنیا کی اخلاقی اور روحانی بھوک دور کر سکیں اور اس اخلاقی اور روحانی طور پر رنگی دنیا کا نگ دور کر سکیں اور لباس تقوی کا ان کے لئے سامان پیدا کر سکیں اور یہ چیز بڑی نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے اور یہ چیز بھی سامنے آئی کہ قانون کے اندر رہتے ہوئے قانون کی پابندی کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کی راہ میں ہنستے مسکراتے قربانیاں کرتے ہوئے بڑھتے چلے جانا وقت کا ایک اہم تقاضا ہے یہ راہ بڑی کٹھن ہے۔دوست اچھی طرح یاد